سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 554
۵۵۴ اسلامی لشکر کے عقب میں اچانک حملہ آور ہو گئے۔مسلمان جو فتح کے اطمینان میں غافل اور منتشر ہور ہے تھے اس بلائے ناگہانی سے گھبرا گئے۔مگر پھر بھی سنبھلے اور پلٹ کر کفار کے حملہ کو روکنا چاہا اس وقت کسی چالاک معاند نے یہ آواز دی کہ اے مسلمانو! دوسری طرف سے بھی کفار کا دھاوا ہو گیا ہے۔کے مسلمانوں نے سراسیمہ ہوکر پھر پلٹا کھایا اور گھبراہٹ میں بے دیکھے سمجھے اپنے آدمیوں پر ہی تلوار چلانی شروع کر دی ہے دوسری طرف مکہ کی ایک بہادر عورت عمرۃ بنت علقمہ نے جب یہ نظارہ دیکھا تو جھٹ آگے بڑھ کر قریش کا علم جو ابھی تک خاک میں پڑا تھا اٹھا کر بلند کر دیا جسے دیکھتے ہی قریش کا منتشر لشکر پھر جمع ہو گیا۔" اور اس طرح مسلمان حقیقتا چاروں طرف سے دشمن کے نرغہ میں گھر گئے اور اسلامی فوج میں ایک خطرناک کھلبلی کی صورت پیدا ہوگئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایک بلند جگہ پر کھڑے ہوئے یہ سب نظارہ دیکھ رہے تھے مسلمانوں کو آواز پر آواز دی مگر اس شور شرابے میں آپ کی آواز دب دب کر رہ جاتی تھی۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اتنے قلیل عرصہ میں ہو گیا کہ اکثر مسلمان بالکل بدحواس ہو گئے۔حتی کہ اس بدحواسی میں بعض مسلمان ایک دوسرے پر وار کرنے لگ گئے اور اپنے پرائے میں امتیاز نہ رہا۔چنانچہ خود مسلمانوں کے ہاتھ سے بعض مسلمان زخمی ہو گئے اور حذیفہ کے والد یمان کو تو مسلمانوں نے غلطی سے شہید ہی کر دیا۔حذیفہ اس وقت قریب ہی تھے وہ چلاتے رہ گئے کہ اے مسلمانو! یہ میرے والد ہیں مگر اس وقت کون سنتا تھا۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں مسلمانوں کی طرف سے یمان کا خون بہا ادا کرنا چاہا مگر حذیفہ نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں اپنے باپ کا خون مسلمانوں کو معاف کرتا ہوں۔حضرت حمزہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا ہونے کے علاوہ آپ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔نہایت بہادری کے ساتھ لڑ رہے تھے اور جدھر جاتے تھے ان کے سامنے قریش کی صفیں پھٹ پھٹ جاتی تھیں مگر دشمن بھی ان کی تاک میں تھا اور جبیر بن مطعم اپنے ایک حبشی غلام وحشی نامی کو خاص طور پر آزادی کا وعدہ دے کر اپنے ساتھ لایا تھا کہ جس طرح بھی ہو حمزہ کو جنہوں نے جبیر کے چچا طعیمہ بن عدی کو بدر کے موقع پر تلوار کی گھاٹ اتارا تھا قتل کر کے اس کے انتقام کو پورا کرے۔چنانچہ وحشی ایک جگہ پر چھپ کر ان کی تاک میں بیٹھ گیا اور جب حمزہ کسی شخص پر حملہ کرتے ہوئے وہاں سے گزرے تو اس نے بخاری کتاب المغازی حالات احد نیز ابن سعد ابن سعد زرقانی ابن ہشام ۵ سورة آل عمران ۱۵۳ تا ۱۵۶ ۱ بخاری کتاب المغازی حالات احد ے ابن ہشام : مسلم ابواب الرضاع