سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 524
۵۲۴ اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔لیکن حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ بشرطیکہ وہ دو دفعہ نہیں ہوا غزوہ ذات الرقاع میں پیش آیا تھا جو بروایت صحیح ۷ ہجری میں ہوا تھا۔تزویج ام کلثوم ربیع الاول ۲ ہجری رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوجہ حضرت عثمان بن عفان کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ان کی وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری لڑکی ام کلثوم کی شادی جو حضرت فاطمہ سے بڑی مگر رقیہ سے چھوٹی تھیں حضرت عثمان سے کر دی۔اسی وجہ سے حضرت عثمان کو ذوالنورین دو نوروں والا کہتے ہیں۔ام کلثوم کی یہ دوسری شادی تھی کیونکہ وہ اور ان کی بہن رقیہ شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چا ابولہب کے دولڑکوں سے بیاہی گئیں تھیں۔مگر قبل اس کے کہ ان کا رخصتانہ ہوتا مذہبی مخالفت کی بنا پر یہ رشتہ منقطع ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے حضرت عثمان سے رقیہ کی شادی کی اور رقیہ کی وفات کے بعد ام کلثوم کی شادی کر دی مگر افسوس ہے کہ ان دونوں صاحبزادیوں کی نسل کا سلسلہ نہیں چلا کیونکہ ام کلثوم کے تو کوئی بچہ ہوا ہی نہیں اور رقیہ کا صاحبزادہ عبداللہ چھ سال کا ہو کر وفات پا گیا۔ام کلثوم کا نکاح ربیع الاول ۳ ہجری میں ہوا تھا۔غزوہ بحران ربیع الاول ۳ ہجری بنو سلیم اور بنو غطفان کے دوجملوں کی تیاری کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فوری اور بر وقت تدبیر نے خدا کے فضل سے اس وقت مسلمانوں کو ان خونخوار قبائل کے شر سے محفوظ رکھا تھا۔مگر جس کے دل میں عداوت کی آگ سلگ رہی ہو وہ نچلا کس طرح بیٹھ سکتا تھا۔ابھی غزوہ ذی امر پر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا یعنی اواخر ربیع الاول ۳ھ میں " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ وحشتناک اطلاع موصول ہوئی کہ بنو سلیم پھر موضوع بحران میں مدینہ پر اچانک حملہ کرنے کی غرض سے بہت بڑی تعداد میں جمع ہورہے ہیں۔اور یہ کہ ان کے ساتھ قریش کا بھی ایک جتھہ ہے۔ناچار آپ پھر صحابہ کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر مدینہ سے نکلے، لیکن حسب عادت عرب کے یہ وحشی درندے جو اپنے شکار پر اچانک اور غفلت کی حالت میں حملہ کرنے کا موقع چاہتے تھے آپ کی آمد آمد کی خبر پا کر ادھر ادھر منتشر ا : ابن ہشام وابن سعد : اصابه واسد الغابه ه: ابن سعد بخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذات الرقاع ابن ہشام ابن ہشام