سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 523 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 523

۵۲۳ قبر کے سرہانے ایک پتھر بطور علامت کے نصب کرادیا اور پھر آپ کبھی کبھی جنت البقیع میں جا کر ان کے لئے دعا فرمایا کرتے تھے۔عثمان پہلے مہاجر تھے جو مدینہ میں فوت ہوئے۔غزوہ ذی امر محرم یا صفر ۳ ھ غزوہ قرقرۃ الکدر کے بیان میں یہ ذکر گزر چکا ہے کہ کس طرح قریش کی انگیخت پر نجد کے قبائل سلیم وغطفان نے مسلمانوں کے خلاف جارحانہ طریق اختیار کر کے اسلام اور بانی اسلام کو تباہ و برباد کر دینے کا تہیہ کر لیا تھا۔ابھی اس واقعہ پر کوئی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ بنو غطفان کے بعض قبائل یعنی بنو ثعلبہ اور بنو محارب کے لوگ اپنے ایک نامور جنگجو دعثور بن حارث کی تحریک پر پھر مدینہ پر اچانک حملہ کر دینے کی نیت سے نجد کے ایک مقام ذی امر میں جمع ہونے شروع ہوئے۔لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کی حرکات وسکنات کا باقاعدہ علم رکھتے تھے آپ کو ان کے اس خونی ارادے کی بروقت اطلاع ہوگئی اور آپ ایک بیدار مغز جرنیل کی طرح پیش بندی کے طور پر ساڑھے چار سو صحابیوں کی جمعیت کو اپنے ساتھ لے کر تے محرم ۳ھ کے آخر یا صفر کے شروع میں " مدینہ سے نکلے اور تیزی کے ساتھ کوچ کرتے ہوئے ذی امر کے قریب پہنچ گئے۔دشمن کو آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو اس نے جھٹ پٹ آس پاس کی پہاڑیوں پر چڑھ کر اپنے آپ کو محفوظ کر لیا اور مسلمان ذی امر میں پہنچے تو میدان خالی تھا۔البتہ بنو ثعلبہ کا ایک بدوی جس کا نام جبار تھا صحابہ کے قابو میں آ گیا۔جسے قید کر کے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حالات دریافت کئے تو معلوم ہوا کہ بنو ثعلبہ اور بنو محارب کے سارے لوگ پہاڑیوں میں محفوظ ہو گئے ہیں اور وہ کھلے میدان میں مسلمانوں کے سامنے نہیں آئیں گے۔ناچار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو واپسی کا حکم دینا پڑا، مگر اس غزوہ کا اتنا فائدہ ضرور ہو گیا کہ اس وقت جو خطرہ بنو غطفان کی طرف سے پیدا ہوا تھا۔وہ وقتی طور پر ٹل گیا۔جبار جو مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہوا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ سے بخوشی مسلمان ہو گیا اور آپ نے اس کی تربیت کا کام بلال کے سپرد فرمایا۔اور تین دن کے قیام کے بعد آپ مدینہ کی طرف واپس تشریف لے آئے۔بعض تاریخی روایات کی رو سے اسی غزوہ میں وہ مشہور واقعہ پیش آیا جس میں ایک بدوی سردار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا اور غافل پا کر آپ پر تلوار کے ساتھ حملہ کیا تھا۔مگر پھر خود مرعوب ہوکر ل: اسدالغابہ ۳۲ : ابن سعد ۵ : ابن ہشام وابن سعد : ابن ہشام وابن سعد ه : ابن ہشام وابن سعد