سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 514 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 514

۵۱۴ اور خود بھی کھائے۔چنانچہ عید الاضحی کے دن اور اس کے بعد دو دن تک تمام اسلامی دنیا میں لاکھوں کروڑوں جانور فی سبیل اللہ قربان کئے جاتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں کے اندر عملی طور پر اس عظیم الشان قربانی کی یا دزندہ رکھی جاتی ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل اور حضرت ہاجرہ نے پیش کی اور جس کی بہترین مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تھی اور ہر ایک مسلمان کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ وہ بھی اپنے آقا و مالک کی راہ میں اپنی جان اور مال اور اپنی ہر ایک چیز قربان کر دینے کے واسطے تیار ہے۔یہ عید بھی عیدالفطر کی طرح ایک عظیم الشان اسلامی عبادت کی تکمیل پر منائی جاتی ہے اور وہ عبادت حج ہے جس کا ذکر انشاء اللہ اپنے موقع پر آئے گا۔حضرت فاطمہ کا نکاح ذوالحجہ ۲ ہجری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کے بیان میں حضرت فاطمہ کا ذکر گزر چکا ہے جمہور مورخین کے قول کے مطابق حضرت فاطمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس اولاد میں سب سے چھوٹی تھیں جو حضرت خدیجہ کے بطن سے پیدا ہوئی۔اور آپ اپنی اولاد میں سب سے زیادہ حضرت فاطمہ کو عزیز رکھتے تھے۔اور اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے وہی اس امتیازی محبت کی سب سے زیادہ اہل تھیں۔اب ان کی عمر کم و بیش پندرہ سال کی تھی اور شادی کے پیغامات آنے شروع ہو گئے تھے۔سب سے پہلے حضرت فاطمہ کے لئے حضرت ابو بکر نے درخواست کی ،مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر کر دیا۔پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا مگر ان کی درخواست بھی منظور نہ ہوئی ہے اس کے بعد ان دونوں بزرگوں نے یہ سمجھ کر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ حضرت علیؓ کے متعلق معلوم ہوتا ہے حضرت علی سے تحریک کی کہ تم فاطمہ کے متعلق درخواست کر دو۔حضرت علیؓ نے جو غالباً پہلے سے خواہش مند تھے مگر بوجہ حیا خاموش تھے فوراً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست پیش کر دی۔دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائی وحی کے ذریعہ یہ اشارہ ہو چکا تھا کہ حضرت فاطمہ کی شادی حضرت علیؓ سے ہونی چاہئے۔چنانچہ حضرت علی نے درخواست پیش کی تو آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس کے متعلق پہلے سے خدائی اشارہ ہو چکا ہے۔پھر آپ نے حضرت فاطمہ سے پوچھا وہ بوجہ حیا کے خاموش رہیں۔۔یہ ایک طرح سے اظہار رضا تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کو جمع کر کے حضرت علی ترمذی باب فضل فاطمه نسائی کتاب النکاح باب ترویج المراة مثلها : اصابه : ابن سعد جلد ۸ صفحه ۱۱ ۱۲ ۵: زرقانی جلد ۲ صفحه ۵۰۴ : ابن سعد جلد ۸ صفحه ۱۲