سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 457 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 457

۴۵۷ فرمایا اور بڑے بڑے جلیل القدر صحابی حتی کہ خالد بن ولید جیسے کامیاب جرنیل بھی ان کی ماتحتی میں رکھے۔پھر سالم بن معقل تھے جو ابوحذیفہ بن عقبہ کے معمولی آزاد کردہ غلام تھے مگر وہ اپنے علم وفضل میں اتنی ترقی کر گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چار صحابیوں کو قرآن شریف کی تعلیم کے لئے مسلمانوں میں مقررفرمایا تھا اور اس معاملہ میں گویا انہیں اپنا نا ئب بننے کے قابل سمجھا تھا ، ان میں ایک سالم بھی تھے۔اسی طرح صحابہ کے بعد نافع مولی ابن عمر اور عکرمہ مولی ابن عباس اور مکحول بن عبداللہ اور عطاء بن ابی رباح اور عبداللہ بن مبارک اور محمد بن سیرین حدیث اور فقہ کے امام مانے جاتے تھے جن کی شاگردی کو بڑے بڑے جلیل القدر لوگ فخر خیال کرتے تھے۔پھر حسن بصری تصوف میں اور مجاہد بن جبیر علم قرآت میں یکتائے زمانہ تھے اور موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن اسحاق علم تاریخ میں استاذ الکل تھے، جن کے علم کا لو ہا دنیا مانتی تھی۔مگر یہ سب لوگ معمولی غلام سے اس مرتبہ کو پہنچے تھے۔لے پھر ہندوستان کا خاندان غلاماں بھی جس کے بعض ممبروں نے سیاست اور ملک داری میں کمال پیدا کیا کسی معرفی کا محتاج نہیں۔یہ درخشندہ مثالیں جو صرف بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں (ورنہ اسلام کی تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے) اسلامی طریق آزادی کا ثمرہ ہیں۔مگر اس کے مقابلہ میں مغربی مصلحین کی اصلاح کا ثمرہ کیا ہے؟ کیا سارے یورپ و امریکہ اور سارے افریقہ و آسٹریلیا میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نظر آتی ہے کہ کبھی کسی آزاد شدہ غلام نے کسی میدان میں ایسی لیڈری اور امامت کا مرتبہ حاصل کیا ہو کہ آزاد کر نے والی قوم بھی اسے اپنا مقتد التسلیم کرنے لگ جاوے؟ ہمیں اقوام کی تاریخ کے عبور کا دعویٰ نہیں ہے لیکن جہاں تک ہمارا علم ہے ہمیں مسیحی اقوام کے آزاد کردہ غلاموں میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ ان غلاموں میں سے کبھی کسی نے کوئی خاص نمایاں امتیاز پیدا کیا ہو بلکہ یہی نظر آتا ہے کہ آزاد ہونے کے بعد بھی یہ لوگ معمولی درجہ کے انسان رہے ہیں۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی طریق آزادی یقیناً بہت زیادہ نفع مند اور بہت زیادہ با برکت تھا۔اندریں حالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح کے مقابلہ میں موجودہ زمانہ کے کسی مصلح کا نام لینا صداقت کی ہتک کرنا ہے۔بیشک ہم ان لوگوں کے کام کو بھی قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کی کوششوں کے مداح ہیں۔مگر ہر شخص کی کوشش کا ایک مرتبہ ہوتا ہے اور حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاحات کا وہ مرتبہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں کسی شخص کی کوشش کا نام نہیں لیا جاسکتا۔آج سے چودہ سو سال قبل جبکہ دنیا غلامی کو اپنا پیدائشی حق سمجھے ہوئے تھی اور غلاموں کی حالت جانوروں سے تہذیب التہذیب و اکمال وغیرہ