سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 458
۴۵۸ بدتر ہورہی تھی اس وقت آپ کا غلاموں کی حمایت میں آواز اٹھانا اور آئندہ کے لئے غلامی کے ظالمانہ طریقوں کو قطعی طور پر منسوخ کر کے موجود الوقت غلاموں کی حالت کی اصلاح کے لئے نہایت دانشمندانہ عملی تدابیر اختیار کرنا اور پھر ان غلاموں کی آزادی کے متعلق پُر زور سفارشات کرنے کے علاوہ ایک ایسا پُر حکمت انتظام جاری کردینا کہ جس کے نتیجہ میں یہ غلام اپنی حالت کو بھی بہتر بناتے جائیں اور ساتھ ساتھ لازماً آزاد بھی ہوتے جائیں اور حکومت کا یہ فرض مقرر کرنا کہ وہ غلاموں کی حالت کی اصلاح اوران کی تدریجی مگر لازمی آزادی کے عمل کی سختی کے ساتھ نگرانی کرے اور پھر اس انتظام کو اس خوبی کے ساتھ چلانا کہ جو غلام آزاد ہوئے اور ان کی تعداد کروڑوں تھی وہ نہ صرف حقیقی معنوں میں آزاد ہوئے بلکہ وہ ملک وقوم کے نہایت مفید شہری بھی بن گئے۔اور ان میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے مسلمانوں میں امارت وامامت کا مرتبہ حاصل کیا جن کے سامنے ان کے آزاد کرنے والوں کی گردنیں بھی جھک گئیں۔یہ وہ کام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور یہ وہ کام ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی پس عامی لوگوں کی طرح یہ اعتراض اٹھانا کہ ابراہام لنکن یا دوسرے مغربی لوگوں کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام غلاموں کو یکانت کیوں نہیں آزاد کر دیا جذبات انسانی کا ایک محض سطحی ابال ہے جس کے اندر کوئی بھی گہرائی نہیں۔اسلامی ممالک میں غلامی کیوں قائم رہی؟ اس موقع پر یہ سوال بھی پیدا کیا گیا ہے کہ اگر اسلام کی تعلیم کا اصل منشا یہ تھا کہ غلام آہستہ آہستہ آزاد ہو جائیں تو پھر اسلامی ممالک میں موجودہ زمانہ تک غلامی کا سلسلہ کیوں جاری رہا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک ایک طرف تو اسلامی حکومت ترقی کرتی گئی اور اس کے اثر کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور دوسری طرف مسلمان اسلامی تعلیمات کی اصل روح کو سمجھتے رہے اور اس پر کار بند ر ہے اس وقت تک غلاموں کی آزادی کی تحریک نہایت سرعت کے ساتھ جاری رہی اور مسلمانوں کی کوشش سے کروڑوں غلام داغ غلامی سے نجات پاگئے ، لیکن جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے اس زمانہ میں دنیا میں غلاموں کی تعداد بے شمار اور بے حساب تھی اور دنیا کا کوئی متمدن ملک ایسا نہیں تھا جہاں نہایت کثرت کے ساتھ غلام نہ پائے جاتے ہوں۔پس پیشتر اس کے کہ یہ نہ ختم ہونے والا خزانہ ختم ہوتا۔ایک طرف تو اسلامی فتوحات کی رو آہستہ آہستہ کمزور ہو کر بالآخر بالکل رک گئی۔اور دوسری طرف زمانہ نبوی کے بعد کے نتیجہ میں وہ نور نبوت کی روشنی جس سے یہ سارا باغ و بہار تھا مسلمانوں کے دلوں میں مدھم پڑنی شروع ہوگئی اور اسلامی تعلیمات کی حقیقت کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کا وہ ولولہ انگیز شوق جسے صحابہ لے کر اٹھے تھے اور جوصحابہ نے اپنے