سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 443
۴۴۳ یہی حدیث ابن عمر سے بھی مروی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام کو مارے اور پھر اسے آزاد کر دے تو اسے اس کے فعل کا کوئی ثواب نہیں ہوگا۔کیونکہ غلام کا آزاد کیا جانا اسلام میں مالک کے مارنے کے فعل کی سزا قرار پا چکا ہے۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کو جبری طور پر آزاد کرنے کا ایک طریق یہ اختیار کیا کہ مالک کے لئے غلام کو مارنے کی سزا یہ مقرر کر دی کہ وہ اسے فوراً آزاد کر دے۔پھر حدیث میں آتا ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رِحْمٍ مُحَرَّمٍ یعنی ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی شخص کے قبضہ میں کوئی ایسا غلام آجاوے جو اس کا قریبی رشتہ دار ہے تو وہ غلام خود بخود آزاد سمجھا جائے گا۔پھر حدیث میں آتا ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اعْتَقَ شِرُكَالَّهُ فِي مَمْلُوبٍ فَعَلَيْهِ عِتْقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِلَّا قُوَّمَ عَلَيْهِ فَاسْتَسْعَىٰ بِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ _ یعنی ” ابن عمر اور ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوشخص کسی غلام کی ملکیت میں دوسروں کے ساتھ حصہ دار ہو اور وہ اپنے حصہ میں غلام کو آزاد کر دے تو اس کا یہ فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مال میں سے دوسرے حصہ داروں کو بھی روپیہ دے کر غلام کو کلیتہ آزاد کرا دے اور اگر اس کے پاس اتنا روپیہ نہ ہو تو پھر بھی غلام کو عملاً آزاد کر دیا جائے گا تا کہ وہ خود اپنی کوشش سے بقیہ رقم پیدا کرے اور دوسرے مالکوں کو ادا کر کے کلی طور پر آزاد ہو جاوے اور اس معاملہ میں غلام کو ہر قسم کی سہولت دی جائے گی۔“ پھر حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ مشرکین مکہ کے بعض غلام بھاگ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے جس پر مشرکوں نے آپ سے درخواست کی کہ وہ غلام انہیں واپس دے دیئے جائیں اور بعض مسلم کتاب الایمان : ابن ماجہ کتاب العتق بخاری کتاب العتق