سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 418 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 418

۴۱۸ نے نہیں مانا اور فرمایا کہ عباس فدیہ ادا کریں تو تب چھوڑے جائیں یا عباس کے متعلق یہ بھی روایت آتی ہے کہ جب وہ مسجد نبوی میں بندھے ہوئے پڑے تھے تو رات کے وقت ان کے کراہنے کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہیں آتی تھی۔انصار کو معلوم ہوا تو انہوں نے عباس کے بندھن ڈھیلے کر دئیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا اگر بندھن ڈھیلے کرتے ہو تو سب کے کرو۔عباس کی کوئی خصوصیت نہیں۔چنانچہ سارے قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دئیے گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داما دا بو العاص بھی اسیران بدر میں سے تھے۔ان کے فدیہ میں ان کی زوجہ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب نے جو ابھی تک مکہ میں تھیں کچھ چیزیں بھیجیں۔ان میں ان کا ایک ہار بھی تھا۔یہ ہار وہ تھا جو حضرت خدیجہ نے جہیز میں اپنی لڑکی زینب کو دیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو مرحومہ خدیجہ کی یاد دل میں تازہ ہوگئی اور آپ چشم پر آب ہو گئے اور صحابہ سے فرمایا اگر تم پسند کرو تو زینب کا مال اسے واپس کر دو۔صحابہ کو اشارہ کی دیر تھی زینب کا مال فور واپس کر دیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقد فدیہ کے قائم مقام ابوالعاص کے ساتھ یہ شرط مقرر کی کہ وہ مکہ میں جا کر زینب کو مدینہ بھیجوا دیں اور اس طرح ایک مومن روح دار کفر سے نجات پاگئی۔کچھ عرصہ بعد ابوالعاص بھی مسلمان ہو کر مدینہ میں ہجرت کر آئے اور اس طرح خاوند بیوی پھر ا کٹھے ہو گئے۔حضرت زینب کی ہجرت کے متعلق یہ روایت آتی ہے کہ جب وہ مدینہ کے لئے مکہ سے نکلیں تو مکہ کے چند قریش نے ان کو بزور واپس لے جانا چاہا۔جب انہوں نے انکار کیا تو ایک بد بخت ھبار بن اسود نامی نے نہایت وحشیانہ طریق پران پر نیزے سے حملہ کیا جس کے ڈر اور صدمہ کے نتیجہ میں انہیں اسقاط ہو گیا ہے بلکہ اس موقع پر ان کو کچھ ایسا صدمہ پہنچ گیا کہ اس کے بعد ان کی صحت کبھی بھی پورے طور پر بحال نہیں ہوئی اور بالآخر انہوں نے اسی کمزوری اور ضعف کی حالت میں بے وقت انتقال کیا۔سے قیدیوں میں جو غریب لوگ تھے اور فدیہ ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت یونہی بطور احسان رہا کر دیئے گئے ہے مگر جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان کی رہائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کے ساتھ مشروط فرمائی کہ دس دس بچوں کو نوشت و خواند سکھا دیں تو رہا کئے جاویں۔چنانچہ زید بن ثابت نے جو بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب خاص کے بخاری ابوداؤد ۲: زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۷۹، ۲۸۰ حالات عباس بن عبد المطلب ابن ہشام