سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 409 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 409

۴۰۹ بعض ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے دل کی خوشی سے اس مہم میں شامل نہیں ہوئے بلکہ رؤساء قریش کے دباؤ کی وجہ سے شامل ہو گئے ہیں۔ورنہ وہ دل میں ہمارے مخالف نہیں۔اسی طرح بعض ایسے لوگ بھی اس لشکر میں شامل ہیں جنہوں نے مکہ میں ہماری مصیبت کے وقت میں ہم سے شریفانہ سلوک کیا تھا اور ہمارا فرض ہے کہ ان کے احسان کا بدلہ اتاریں۔پس اگر کسی ایسے شخص پر کوئی مسلمان غلبہ پائے تو اسے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائے۔اور آپ نے خصوصیت کے ساتھ قسم اول میں عباس بن عبدالمطلب اور قسم ثانی میں ابوالبختری کا نام لیا اور ان کے قتل سے منع فرمایا۔مگر حالات نے کچھ ایسی ناگزیر صورت اختیار کی کہ ابوالبختری قتل سے بچ نہ سکا گوا سے مرنے سے قبل اس بات کا علم ہو گیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل سے منع فرمایا ہے۔اس کے بعد آپ سائبان میں جا کر پھر دعا میں مشغول ہو گئے۔حضرت ابوبکر بھی ساتھ تھے اور سائبان کے اردگرد انصار کی ایک جماعت سعد بن معاذ کی زیر کمان پہرہ پر متعین تھی۔تھوڑی دیر کے بعد میدان میں سے ایک شور بلند ہوا اور معلوم ہوا کہ قریش کے لشکر نے عام حملہ کر دیا ہے۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہایت رفت کی حالت میں خدا کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے دعائیں کر رہے تھے اور نہایت اضطراب کی حالت میں فرماتے تھے کہ اللَّهُمَّ إِنِّي انْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ اَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ اے میرے خدا اپنے وعدوں کو پورا کر۔اے میرے مالک ! اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج اس میدان میں ہلاک ہوگئی تو دنیا میں تجھے پوجنے والا کوئی نہیں رہے گا۔اور اس وقت آپ اس قدر کرب کی حالت میں تھے کہ کبھی آپ سجدہ میں گر جاتے تھے اور کبھی کھڑے ہو کر خدا کو پکارتے تھے اور آپ کی چادر آپ کے کندھوں سے گر گر پڑتی تھی اور حضرت ابو بکر اسے اٹھا اٹھا کر آپ پر ڈال دیتے تھے۔۔حضرت علی کہتے ہیں کہ مجھے لڑتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آتا تھا تو میں آپ کے سائبان کی طرف بھاگ جاتا تھا، لیکن جب بھی میں گیا میں نے آپ کو سجدہ میں گڑ گڑاتے ہوئے پایا۔اور میں نے سنا کہ آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے کہ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ہے یعنی ”اے میرے زندہ خدا ! اے میرے زندگی بخش آقا! حضرت ابوبکر آپ کی اس حالت کو دیکھ کر بے چین ہوئے جاتے تھے اور کبھی کبھی بے ساختہ عرض کرتے تھے یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔آپ گھبرائیں نہیں۔اللہ طبری مسلم وترندی ،، بخاری و مسلم نسائی وابن سعد