سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 336
۳۳۶ أُمِرْتُ بِالْعَفْوِفَلا تُقَاتِلُوا۔یعنی ” مجھے ابھی تک عفو کا حکم ہے اس لئے میں تمہیں لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔چنانچہ صحابہ نے دین کی راہ میں ہر قسم کی تکلیف اور ذلت برداشت کی مگر صبر کے دامن کو نہ چھوڑا حتی کہ قریش کے مظالم کا پیالہ لبریز ہو کر چھلکنے لگ گیا اور خدا وند عالم کی نظر میں اتمام حجت کی میعاد پوری ہوگئی۔تب خدا نے اپنے بندے کو حکم دیا کہ تو اس بستی سے نکل جا کہ اب معاملہ عفو کی حد سے گزر چکا ہے اور وقت آگیا ہے کہ ظالم اپنے کیفر کردار کو پہنچے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہجرت قریش کے الٹی میٹم کے قبول کئے جانے کی علامت تھی اور اس میں خدا کی طرف سے اعلان جنگ کا ایک مخفی اشارہ تھا جسے مسلمان اور کفار دونوں سمجھتے تھے چنانچہ دارالندوہ کے مشورہ کے وقت جب کسی شخص نے یہ تجویز پیش کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکال دیا جاوے تو رؤساء قریش نے اس تجویز کواسی بناء پر رد کر دیا تھا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ سے نکل گیا تو پھر ضرور مسلمان ہمارے الٹی میٹم کو قبول کر کے ہمارے خلاف میدان میں نکل آئیں گے اور مدینہ کے انصار کے سامنے بھی جب بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا سوال آیا تو انہوں نے فوراً کہا کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں تمام عرب کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہو جانا چاہئے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکلے اور آپ نے مکہ کے درودیوار پر حسرت بھری نگاہیں ڈال کر فرمایا کہ اے مکہ تو مجھے ساری بستیوں سے زیادہ عزیز تھا مگر تیرے باشندے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے تو اس پر حضرت ابوبکر نے بھی یہی کہا کہ انہوں نے خدا کے رسول کو اس کے وطن سے نکالا ہے اب یہ لوگ ضرور ہلاک ہوں گے۔خلاصہ کلام یہ کہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مقیم رہے آپ نے ہر قسم کے مظالم برداشت کئے لیکن قریش کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی۔کیونکہ اول تو پیشتر اس کے کہ قریش کے خلاف کوئی کاروائی کی جاتی سنت اللہ کے مطابق ان پر اتمام حجت ضروری تھا اور اس کے لئے مہلت درکار تھی۔دوسرے خدا کا یہ بھی منشاء تھا کہ مسلمان اس آخری حد تک عفوا اور صبر کا نمونہ دکھلائیں کہ جس کے بعد خاموش رہنا خود کشی کے ہم معنے ہو جاوے جو کسی عقل مند کے نزدیک مستحن فعل نہیں سمجھا جا سکتا۔تیسرے مکہ میں قریش کی ایک قسم کی جمہوری حکومت قائم تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے شہریوں میں سے ایک شہری تھے۔پس حسن سیاست کا تقاضا تھا کہ جب تک آپ مکہ میں رہیں آپ اس حکومت کا احترام فرمائیں اور خود کوئی امن شکن بات نہ ہونے دیں اور جب معاملہ عفو کی حد سے گزر جاوے تو آپ وہاں سے ہجرت کر جائیں۔۱ ، ۲ : نسائی کتاب الجہاد