سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 322 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 322

۳۲۲ جہاد بالسیف کا آغاز اور جہاد کے متعلق اصولی بحث جہاد بالسیف کا آغاز اب ہم ہجرت کے دوسرے سال اور اسلامی تاریخ کے اس حصہ میں داخل ہوتے ہیں جس میں کفار کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ کا آغاز ہوا۔جہاد بالسیف کا مسئلہ جس کے ماتحت مسلمانوں کی تلوار نیام سے باہر آئی باوجود در حقیقت ایک بہت صاف اور سادہ مسئلہ ہونے کے ان متضاد خیالات کی وجہ سے جو بد قسمتی سے خود بعض مسلمانوں کی طرف سے اس کے متعلق ظاہر کئے گئے ہیں اور نیز بعض غیر مسلم مؤرخین کی تحریرات کی وجہ سے جو انہوں نے مؤرخ کی حیثیت سے ہٹ کر ایک متعصب مذہبی مناظر کی حیثیت میں لکھی ہیں ایک نہایت پیچ دار مسئلہ بن گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسلام نے ابتداء تلوار کے سایہ کے نیچے پرورش پائی جو ہر اس شخص کے سر پر اٹھتی تھی جو اسلام لانے سے انکار کرتا تھا اور مسلمانوں کا یہ مذہبی فرض مقرر کیا گیا تھا کہ وہ تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بنا ئیں۔یہ خیال حقیقت سے کس قدر دور اور صحیح تاریخی واقعات کے کس قدر خلاف ہے؟ اس کا جواب ذیل کے اوراق میں ملے گا۔حقیقت حال یہ ہے اور اس حقیقت کے شواہد ابھی ظاہر ہو جائیں گے کہ اس ابتدائی زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ابتداء جو کچھ کیا وہ دفاع اور خود حفاظتی میں کیا اور وہ بھی اس وقت کیا جبکہ قریش مکہ اور ان کی انگیخت پر دوسرے قبائل عرب کی معاندانہ کارروائیاں اس حد کو پہنچ چکی تھیں کہ ان سے مقابلہ میں مسلمانوں کا خاموش رہنا اور اپنی حفاظت کے لئے ہاتھ نہ اٹھانا خودکشی کے ہم معنی تھا جسے کوئی عقل مند نظر استحسان سے نہیں دیکھ سکتا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دفاعی جنگ کے دوران جو جو کارروائیاں فرمائیں وہ حالات پیش آمدہ کے ماتحت نہ صرف بالکل جائز اور درست تھیں بلکہ جنگی ضابطہ اخلاق کا جو معیار آپ نے قائم فرمایا وہ آج بھی دنیا کے واسطے ایک بہترین