سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 301
۳۰۱ تعمیر مسجد نبوی مدینہ کے قیام کا سب سے پہلا کام مسجد نبوی کی تعمیر تھا جس جگہ آپ کی انٹی آکر بیٹھی تھی وہ مدینہ کے دو مسلمان بچوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھی جو حضرت اسعد بن زرارہ کی نگرانی میں رہتے تھے۔یہ ایک افتادہ جگہ تھی جس کے ایک حصہ میں کہیں کہیں کھجوروں کے درخت تھے اور دوسرے حصہ میں کچھ کھنڈرات وغیرہ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد اور اپنے حجرات کی تعمیر کے لئے پسند فرمایا اور دس دینار یعنی قریب نوے روپے میں یہ زمین خرید لی گئی اور جگہ کو ہموار کر کے اور درختوں کو کاٹ کر مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہوگئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دعا مانگتے ہوئے سنگ بنیا درکھا اور جیسا کہ قبا کی مسجد میں ہوا تھا صحابہ نے معماروں اور مزدوروں کا کام کیا جس میں کبھی کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شرکت فرماتے تھے۔بعض اوقات اینٹیں اٹھاتے ہوئے صحابہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ انصاری کا یہ شعر پڑھتے تھے۔هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَرَ هَذَا أَبَرُّ رَبَّنَا وَأَطْهَرُ یعنی یہ بوجھ خیبر کے تجارتی مال کا بوجھ نہیں ہے جو جانوروں پر لد کر آیا کرتا ہے بلکہ اے ہمارے مولی ! یہ بوجھ تقویٰ اور طہارت کا بوجھ ہے جو ہم تیری رضا کے لئے اٹھاتے ہیں۔“ اور کبھی کبھی صحابہ کام کرتے ہوئے عبداللہ بن رواحہ کا یہ شعر پڑھتے تھے اللَّهُمَّ إِنَّ الْحُجُرَ أَجُرُ الْآخِرَةِ فَارُحَمِ الْأَنْصَارَوَ الْمُهَاجِرَةِ یعنی اے ہمارے اللہ ! اصل اجر تو صرف آخرت کا اجر ہے۔پس تو اپنے فضل سے انصار ومہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما۔جب صحابہ یہ اشعار پڑھتے تھے تو بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی آواز کے ساتھ آواز ملا دیتے تھے اور اس طرح ایک لمبے عرصہ کی محنت کے بعد یہ مسجد مکمل ہوئی یا مسجد کی عمارت پتھروں کی سلوں اور اینٹوں کی تھی جو کٹڑی کے کھمبوں کے درمیان چن دی گئی تھیں اور چھت پر کھجور کے تنے اور شاخیں ڈالی گئی تھیں۔مسجد کے اندر چھت کے سہارے کے لئے کھجور کے ستون تھے اور جب تک منبر کی تجویز نہیں ہوئی انہی ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے وقت ٹیک لگا کر کھڑے ہو جاتے تھے۔مسجد کا فرش کچا تھا اور چونکہ زیادہ بارش کے وقت چھت ٹپکنے لگ جاتی تھی اس لئے ایسے اوقات میں فرش پر کیچڑ ہو جا تا تھا۔چنانچہ اس تکلیف کو دیکھ کر بعد میں کنکریوں کا فرش بنوا دیا گیا۔ل : بخاری ابواب الہجرت وزرقانی