سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 300
ہیں اور مزید ا تفاق یہ ہو گیا کہ رات کو چھت پر ایک پانی کا برتن ٹوٹ گیا اورابوایوب نے اس ڈر سے کہ پانی کا کوئی قطرہ نیچے نہ ٹپک جاوے، جلدی سے اپنا لحاف پانی پر گرا کر اسے خشک کر دیا۔صبح ہوئی تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بکمال اصرار آپ کی خدمت میں اوپر کی منزل میں تشریف لے چلنے کی درخواست کی۔آپ نے پہلے تو تامل کیا لیکن بالآخر ابوایوب کے اصرار کو دیکھ کر رضا مند ہو گئے۔اس مکان میں آپ نے سات ماہ تک یا ابن اسحاق کی روایت کی رو سے ماہ صفر۲ ہجری تک قیام فرمایا۔گویا جب تک مسجد نبوی اور اس کے ساتھ والے حجرے تیار نہیں ہو گئے آپ اسی جگہ مقیم رہے۔ابوایوب آپ کی خدمت میں کھانا بھجواتے تھے اور پھر جو کھانا بیچ کر آتا تھا وہ خود کھاتے تھے اور محبت واخلاص کی وجہ سے اُسی جگہ انگلیاں ڈالتے تھے جہاں سے آپ نے کھایا ہوتا تھا۔دوسرے اصحاب بھی عموماً آپ کی خدمت میں کھانا بھیجا کرتے تھے۔چنانچہ ان لوگوں میں سعد بن عبادہ رئیس قبیلہ خزرج کا نام تاریخ میں خاص طور پر مذکور ہوا ہے۔انس بن مالک مدینہ کے ایک دس سالہ یتیم بچے تھے۔ان کی والدہ جن کا نام ام سلیم تھا اور جو بہت مخلص تھیں ان کو اپنے ساتھ لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں انس کو آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں آپ اس کے لئے دعا فرماویں اور اپنی خدمت کے لئے اسے قبول فرما دیں۔آپ نے ان کے لئے دعائے خیر کی اور اپنی خدمت میں انہیں منظور فرمایا اور اس کے بعد سے انس بن مالک ہمیشہ آپ کی خدمت میں رہنے لگ گئے اور آپ کی وفات تک اس خدمت سے جدا نہیں ہوئے۔یہ وہی انس ہیں جن سے بہت سی احادیث کتب حدیث میں مروی ہوئی ہیں اور جو خاص صحابہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔انس نے بڑی لمبی عمر پائی اور ۹ ہجری یا ۹۳ ہجری میں بصرہ میں فوت ہوئے جبکہ ان کے سوا غالباً ایک یا دوصحابی اور زندہ تھے۔اپنی آخری عمر میں انس اکثر کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے میرے مال اور میری اولاد میں اتنی برکت ہوئی ہے جو میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی اور اب مجھے صرف جنت کی دعا کے پورا ہونے کا انتظار ہے۔مدینہ پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کو کچھ روپیہ دے کر مکہ روانہ فرمایا جو چند دن میں آپ کے اور اپنے اہل وعیال کو ساتھ لے کر مع الخیر مدینہ میں پہنچ گئے۔ان کے ساتھ عبداللہ بن ابی بکر حضرت ابو بکر کے اہل وعیال کو بھی ساتھ لے کر مدینہ پہنچ گئے۔ل : مسلم جلد ۲ صفحہ ۱۹۷ وابن ہشام