سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 261
۲۶۱ دیں۔ایسا کرنے سے اس کا خون سب قبائل قریش پر پھیل جائے گا اور بنو عبد مناف کو اتنی جرأت ہرگز نہیں ہوگی کہ ساری قوم کے ساتھ لڑیں۔پس لامحالہ ان کو اس خون کے بدلے میں دیت قبول کرنی ہوگی۔سو وہ ہم دے دیں گے۔شیخ نجدی رائے ہے تو بس اس شخص کی۔باقی سب فضول باتیں ہیں۔پس اگر کچھ کرنا ہے تو جو یہ کہتا ہے وہ کرو۔غرض اس رائے پر سب کا اتفاق ہو گیا۔قرآن شریف میں ان کے اس مشورہ کا ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے: وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ اَوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ b وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ الله وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ اور یاد کر جبکہ کفار تیرے متعلق منصو بے کرتے تھے تا کہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر دیں یا وطن سے نکال دیں۔اور وہ اپنی طرف سے خوب پختہ منصوبے گانٹھ رہے تھے مگر اللہ نے بھی اپنی جگہ تدبیر کر لی تھی اور اللہ بہتر تد بیر کرنے والا ہے۔“ ادھر یہ لوگ مشورہ کر کے نکلے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خون سے اپنے پلید ہاتھ رنگیں اور ادھر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ سے اپنے نبی کو ان کے اس بد ارادے سے اطلاع دے دی اور اجازت عطا فرمائی کہ میثرب کی طرف ہجرت کر جائیں اور آنے والی رات مکہ میں نہ گزاریں ہے یہ اطلاع پا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے۔گرمیوں کے دن تھے اور دو پہر کا وقت تھا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ صبح یا شام آپ ہمارے مکان پر حضرت ابو بکر سے ملنے تشریف لایا کرتے تھے۔اُس دن جو بے وقت آئے اور آئے بھی اس طرح کہ آپ نے اپنا سر ایک کپڑے سے ڈھانکا ہوا تھا۔تو حضرت ابو بکر نے فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ آج کوئی خاص بات ہے۔آپ اجازت لے کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور فرمایا۔اگر یہاں کوئی غیر شخص ہو تو اُسے ذرا باہر بھیج دیں۔ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ہی کے گھر کے لوگ ہیں۔فرمایا ” مجھے ل : ابن ہشام وطبری وا بن سعد : سورۃ انفال: ۳۱ ے : اس صورت کو آخر میں اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ بالآ خر عملاً یہی وقوع میں آئی۔: ابن ہشام وطبری ۵ : طبری واقعات ہجرت