سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 250 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 250

۲۵۰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے صرف ان الفاظ میں بیعت لی جن میں آپ جہاد فرض ہونے کے بعد عورتوں سے بیعت لیا کرتے تھے۔یعنی یہ کہ ہم خدا کو ایک جانیں گے۔شرک نہیں کریں گے۔چوری نہیں کریں گے۔زنا کے مرتکب نہیں ہوں گے۔قتل سے باز رہیں گے۔کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے اور ہر نیک کام میں آپ کی اطاعت کریں گے۔بیعت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم صدق و ثبات کے ساتھ اس عہد پر قائم رہے تو تمہیں جنت نصیب ہوگی اور اگر کمزوری دکھائی تو پھر تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے وہ جس طرح چاہے گا کرے گا۔“ یہ بیعت تاریخ میں بیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے مشہور ہے۔کیونکہ وہ جگہ جہاں بیعت لی گئی تھی عقبہ کہلاتی ہے جو مکہ اور منی کے درمیان واقع ہے عقبہ کے لفظی معنی بلند پہاڑی رستے کے ہیں۔مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے ان بارہ نومسلمین نے درخواست کی کہ کوئی اسلامی معلم ہمارے ساتھ بھیجا جاوے جو ہمیں اسلام کی تعلیم دے اور ہمارے مشرک بھائیوں کو اسلام کی تبلیغ کرے۔آپ نے مصعب بن عمیر کو جو قبیلہ عبدالدار کے ایک نہایت مخلص نوجوان تھے ان کے ساتھ روانہ کر دیا۔اسلامی مبلغ ان دنوں میں قاری یا مقری کہلاتے تھے کیونکہ ان کا کام زیادہ تر قرآن شریف سنانا تھا کیونکہ یہی تبلیغ اسلام کا بہترین ذریعہ تھا۔چنانچہ مصعب بھی یثرب میں مقری کے نام سے مشہور ہو گئے لے یثرب میں اسلام کا چرچا مصعب بن عمیر نے مدینہ پہنچ کر اسعد بن زرارہ کے مکان پر قیام کیا جو مدینہ میں سب سے پہلے مسلمان تھے اور ویسے بھی ایک نہایت مخلص اور با اثر بزرگ تھے اور اسی مکان کو اپنا تبلیغی مرکز بنایا اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے اور چونکہ مدینہ میں مسلمانوں کو اجتماعی زندگی نصیب تھی اور تھی بھی نسبتاً امن کی زندگی ، اس لیے اسعد بن زرارہ کی تجویز پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمیر کو جمعہ کی نماز کی ہدایت فرمائی اور اس طرح مسلمانوں کی اشترا کی زندگی کا آغاز ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں مدینہ میں گھر گھر اسلام کا چرچا ہونے لگا اور اوس اور خزرج بڑی سرعت کے ساتھ مسلمان ہونے شروع ہو گئے۔بعض صورتوں میں تو ایک قبیلے کا قبیلہ ایک دن میں ہی سب کا سب مسلمان ہو گیا؛ چنانچہ بنو عبد الاشہل کا قبیلہ بھی اسی طرح ایک ہی وقت میں اکٹھا مسلمان ہوا تھا۔یہ قبیلہ انصار کے مشہور قبیلہ اوس کا ایک ممتاز حصہ تھا اور اس کے رئیس کا نام سعد بن معاذ تھا جو صرف قبیلہ بنوعبدالاشھل کے ہی رئیس اعظم نہ تھے بلکہ تمام قبیلہ اوس : ابن ہشام وطبری