سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 248 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 248

۲۴۸ یہ خیال کیا کرتے تھے کہ دیکھیں ان چھ مصدقین کا کیا انجام ہوتا ہے اور آیا بیتر ب میں کامیابی کی کوئی امید بندھتی ہے یا نہیں۔مسلمانوں کے لیے بھی یہ زمانہ ظاہری حالات کے لحاظ سے ایک بیم ورجا کا زمانہ تھا۔وہ دیکھتے تھے کہ سردارانِ مکہ اور رؤساء طائف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو ختی کے ساتھ رد کر چکے ہیں دیگر قبائل عرب بھی ایک ایک کر کے اپنے انکار پر مہر لگا چکے تھے۔مدینہ میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی تھی مگر کون کہہ سکتا تھا کہ یہ کرن مصائب و آلام کے طوفان اور شدائد کی آندھیوں میں قائم رہ سکے گی۔دوسری طرف مکہ والوں کے مظالم دن بدن زیادہ ہو رہے تھے اور انہوں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ اسلام کو مٹانے کا بس یہی وقت ہے مگر اس نازک وقت میں بھی جس سے زیادہ نازک وقت اسلام پر کبھی نہیں آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخلص صحابی ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی جگہ پر قائم تھے اور آپ کا یہ عزم واستقلال بعض اوقات آپ کے مخالفین کو بھی حیرت میں ڈال دیتا تھا کہ یہ شخص کس قلبی طاقت کا مالک ہے کہ کوئی چیز اسے اپنی جگہ سے ہلانہیں سکتی۔بلکہ اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں خاص طور پر ایک رعب اور جلال کی کیفیت پائی جاتی تھی اور مصائب کے ان تند طوفانوں میں آپ کا سر اور بھی بلند ہوتا جاتا تھا۔یہ نظارہ اگر ایک طرف قریش مکہ کو حیران کرتا تھا تو دوسری طرف ان کے دلوں پر کبھی کبھی لرزہ بھی ڈال دیتا تھا۔ان ایام کے متعلق سرولیم میورلکھتا ہے: ان ایام میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی قوم کے سامنے اس طرح سینہ سپر تھا کہ انہیں بعض اوقات حرکت کی تاب نہیں ہوتی تھی۔اپنی بالآ خر فتح کے یقین سے معمور مگر بظاہر بے بس اور بے یار ومددگار وہ اور اس کا چھوٹا سا گر وہ اس زمانہ میں گویا ایک شیر کے منہ میں تھے مگر اس خدا کی نصرت کے وعدوں پر کامل اعتما در رکھتے ہوئے جس نے اسے رسول بنا کر بھیجا تھا۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک ایسے عزم کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا تھا جسے کوئی چیز اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی تھی۔یہ نظارہ ایک ایسا شاندار منظر پیش کرتا ہے جس کی مثال سوائے اسرائیل کی اس حالت کے اور کہیں نظر نہیں آتی کہ جب اس نے مصائب و آلام میں گھر کر خدا کے سامنے یہ الفاظ کہے تھے کہ اے میرے آقا ! اب تو میں۔ہاں صرف میں ہی اکیلا رہ گیا ہوں۔نہیں بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا یہ نظارہ اسرائیلی نبیوں سے بھی ایک رنگ میں بڑھ کر تھا۔۔۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے یہ الفاظ اسی موقع پر کہے گئے تھے کہ اے میری قوم کے صنادید تم نے جو کچھ کرنا ہے کرلو۔میں بھی کسی امید پر کھڑا ہوں۔“