سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 247
۲۴۷ کی مکہ میں بیٹرب والوں سے پھر ملاقات ہو گئی۔آپ نے حسب ونسب پوچھا تو معلوم ہوا کہ قبیلہ خزرج کے لوگ ہیں اور میثرب سے آئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت محبت کے لہجہ میں کہا ” کیا آپ لوگ میری کچھ باتیں سن سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا ”ہاں ! آپ کیا کہتے ہیں۔“ آپ بیٹھ گئے اور ان کو اسلام کی دعوت دی اور قرآن شریف کی چند آیات سنا کر اپنے مشن سے آگاہ کیا۔ان لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا ”یہ موقع ہے۔ایسا نہ ہو کہ یہود ہم سے سبقت لے جاویں۔“ یہ کہہ کر سب مسلمان ہو گئے۔یہ چھ اشخاص تھے جن کے نام یہ ہیں: -1 -۲ -Y ابوامامہ اسعد بن زرارہ جو بنو نجار سے تھے اور تصدیق کرنے میں سب سے اول تھے۔عوف بن حارث یہ بھی بنو نجار سے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کے ننھیال کا قبیلہ تھا۔رافع بن مالک جو ہنوزریق سے تھے۔اب تک جو قرآن شریف نازل ہو چکا تھا۔وہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عطا فرمایا ہے قطبہ بن عامر جو بنی سلمہ سے تھے۔عقبہ بن عامر جو بنی حرام سے تھے اور جابر بن عبد اللہ بن رمان جو بنی عبیدہ سے تھے۔اس کے بعد یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوئے اور جاتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں خانہ جنگیوں نے بہت کمزور کر رکھا ہے اور ہم میں آپس میں بہت نا اتفاقیاں ہیں۔ہم یثرب میں جا کر اپنے بھائیوں میں اسلام کی تبلیغ کریں گے۔کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ ہم کو پھر جمع کر دے پھر ہم ہر طرح آپ کی مدد کے لیے تیار ہوں گے؛ چنانچہ یہ لوگ گئے اور ان کی وجہ سے میثرب میں اسلام کا چرچا ہونے لگا ہے بیعت عقبہ اولی ۱۲ نبوی سه سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں بیٹرب والوں کی طرف سے یہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے ایک بیم ورجا کی حالت میں گذارا۔آپ اکثر لے : اس سے قبل حضرت عمر کے اسلام لانے کے واقعہ میں اس قسم کا ذکر گذر چکا ہے اسی ضمن میں یہ دوسرا واقعہ ہے جو اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ قرآن شریف ساتھ ساتھ ضبط تحریر میں آتا جا تا تھا۔منہ : ابن ہشام وطبری و زرقانی