سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 234 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 234

۲۳۴ با قاعدہ نماز کا آغاز ہو گیا۔حدیث میں آتا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے جس میں وہ خدا کے حضور میں حاضر ہو کر اس سے باتیں کرتا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ اگر نماز کو اس کے جملہ شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے اور دل کی توجہ بھی اس کے ساتھ ہو تو وہ ذات باری تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لیے ایک بہترین کیفیت کی حامل ہے۔انسانی جسم اور روح میں فطری طور پر ایک ایسا رابطہ اور اتحاد رکھا گیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا چھوٹے سے چھوٹا تغیر بھی دوسرے پر ایک گہرا اثر پیدا کرتا ہے۔مثلاً جسم کو اگر کوئی تکلیف پہنچے تو فوراً روح بھی بے قرار ہونے لگتی ہے اور اگر روح کو کوئی صدمہ پہنچے تو اس کا فوری اثر جسم پر پڑتا ہے اور جسم میں بھی ساری کیفیات پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں جو خود جسم کو تکلیف پہنچنے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔روح خوش ہو تو جسم پر بھی خوشی کے آثار تبسم وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہونے لگتے ہیں اور اگر روح مغموم ہو تو انسان کا چہرہ فورا غم کا نقشہ پیش کرنے لگ جاتا ہے۔الغرض جسم اور روح کے درمیان ایک فطری رابطہ اور اتحاد ہے جس کی وجہ سے وہ دونوں ایک دوسرے سے گہرا اثر قبول کرتے ہیں۔اس لیے اسلامی شریعت میں کمال حکمت سے عبادت کا جسمانی نقشہ ایسا تجویز کیا گیا ہے جو انسانی روح میں تعبد اور تذلل کی کیفیات پیدا کرنے کے لیے اپنے اندر ایک طبعی خاصیت رکھتا ہے، چنانچہ نماز میں قیام اور رکوع اور سجدہ اور قعدہ کی حالتیں اسی غرض و غایت کے ماتحت رکھی گئی ہیں کہ تا انسانی روح کے اندران جسمانی کیفیات کے مناسب حال روحانی کیفیات پیدا کی جائیں اور ہر حالت کے لیے جود عایا تحمید یا تسبیح کے الفاظ مقرر کیے گئے ہیں وہ بھی اس روحانی کیفیت کے مناسب حال تجویز کئے گئے ہیں جو ہر جسمانی کیفیت کے مقابلہ میں روح کے اندر پیدا کرنی مقصود ہے۔مثلاً نماز میں سجدہ کی حالت میں جس میں انسان اپنا ماتھا زمین پر رکھ دیتا ہے انتہائی تعتبر اور تذلیل کی حالت ہے۔اس لیے جو الفاظ سجدہ کی حالت میں پڑھنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں یعنی سُبْحَانَ رَبِّيَ الأعْلى ( میرا رب جو سب سے بالا و بلند ہے وہ عیبوں سے پاک اور سب کمزوریوں سے منزہ ہے ) وہ بھی خدا تعالیٰ کی بڑائی اور بزرگی کے سب سے زیادہ حامل ہیں تا کہ انسانی روح یہ محسوس کرے کہ میں جس ہستی کے سامنے سجدہ کر رہی ہوں وہ ایک ایسی برتر و بالا ہستی ہے کہ اس کے سامنے میرا یہی منصب ہے کہ انتہائی تعبد و تذلل کے ساتھ اس کے آگے گری رہوں۔اس احساس کے پیدا ہوتے ہی انسانی روح قرب الہی کی طرف بلند ہونا شروع ہو جاتی ہے اور ناممکن ہے کہ سجدہ کی حالت میں ایک انسان اپنی توجہ کو قائم رکھتے ہوئے اپنے دل میں کوئی روحانی تغیر محسوس نہ کرے۔البتہ جو لوگ نماز کو محض ایک رسم کے طور پر ادا کرتے ہیں اور دل کی توجہ ان کے ساتھ