سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 214
۲۱۴ ساری کی ساری روایات میں مکہ سے سیدھا آسمان کی طرف اُٹھایا جانا بیان کیا گیا ہے۔جس سے معراج کا اسراء سے جدا ہونا یقینی طور پر ثابت ہے۔اسی طرح سیرت ابن ہشام میں جو سیرۃ کی کتابوں میں سب سے زیادہ متداول کتاب ہے۔معراج اور اسراء کو بالکل علیحدہ علیحدہ طور پر بیان کیا گیا ہے اور یہ تصریح ہے کہ مکہ سے لے کر بیت المقدس تک کے سفر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں واپس تشریف لے آئے تھے اور معراج کا واقعہ علیحدہ طور پر ہوا تھا۔اسی طرح مشہور مؤرخ ابن سعد نے بھی معراج اور اسراء کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں میں علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ان شہادتوں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ خواہ معراج اور اسراء کا روحانی طور پر آپس میں کوئی تعلق اور رابطہ ہو مگر واقعہ کے لحاظ سے وہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور متفائر چیزیں تھیں جو جدا جدا طور پر علیحدہ علیحدہ کوائف کے ساتھ وقوع پذیر ہوئیں؛ چنانچہ متقدمین میں سے بھی ایک معتد بہ حصہ نے معراج اور اسراء کو علیحدہ علیحدہ قرار دیا ہے۔دوسری غلطی اس بحث میں یہ ہوئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سفروں کو ظاہری سفر قرار دے دیا گیا ہے جو گویا اس مادی جسم کے ساتھ وقوع پذیر ہوئے؛ حالانکہ مذکورہ بالا تینوں شہادتیں اس خیال کو بھی سختی سے رڈ کرتی ہیں؛ چنانچہ قرآن شریف میں معراج کے متعلق جو بیان آتا ہے۔اس میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأی یعنی اس موقع پر جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل نے دیکھا وہ بالکل ٹھیک ٹھیک اور سچ تھا اور آپ کے قلب صافی نے اس نظارہ کے دیکھنے اور سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں کی۔اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ ایک قلبی نظارہ تھا نہ کہ ایک جسمانی اور مادی سفر۔اسی طرح حدیث میں بھی یہ واضح اشارہ پایا جاتا ہے کہ معراج ایک روحانی امر تھا۔چنانچہ حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان پر اُٹھائے جانے کا نظارہ دکھایا گیا۔اس وقت آپ سور ہے تھے مگر یہ کہ آپ کا یہ سونا عام لوگوں کی طرح کا سونا نہ تھا بلکہ اس خاص شان نبوت سے تعلق رکھتا تھا ل : دیکھو بخاری کتاب الصلوۃ باب كَيْفَ فُرِضَتِ الصَّلوة وكتاب بدء الخلق بابت ذکر الملائکہ وہاب ادریس علیہ السلام و باب كَانَ النَّبِيُّ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ وَ باب المعراج و كتاب التوحيد باب قوله كَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا۔ے : سیرۃ ابن ہشام ذکر الاسراء : طبقات ابن سعد جلدا ۴: دیکھو زرقانی بحث اسراء ومعراج جلدا وجلد ۶ میں ذکر اسراء و معراج و سیرت حلبیہ ذکر معراج ۵ : سورة نجم : - ۱۲ :