سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 215
۲۱۵ جس میں آپ کی آنکھ تو سوتی تھی مگر دل بیدار رہتا تھا۔اور ایک دوسری روایت میں یہ مذکور ہے کہ معراج کا نظارہ آپ کو نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں دکھایا گیا۔اور ایک تیسری روایت میں یہ مذکور ہے کہ معراج کے نظارہ کے بعد آپ بیدار ہو گئے۔اور ایک چوتھی روایت میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اگر کوئی شخص تم میں سے یہ کہے کہ معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جسمانی آنکھوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کو دیکھا تو وہ جھوٹا ہے۔اس کی بات ہرگز نہ مانو اور فرماتی ہیں کہ میرے تو اس خیال سے ہی بدن کے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں کہ آپ نے ان جسمانی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کو دیکھا تھا۔پھر کتب سیرۃ میں بھی ایسی روایات کی کمی نہیں ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معراج ایک روحانی امر تھا نہ کہ ظاہری اور جسمانی سفر۔چنانچہ مشہور اسلامی مورخ ابن اسحاق نے حضرت عائشہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ مَا فُقِدَ جَسَدُهُ یعنی معراج کی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک غائب نہیں ہوا بلکہ تمام وقت اسی مادی دنیا میں موجود رہا۔اس سے بڑھ کر معراج کے روحانی ہونے کے متعلق کیا شہادت ہوگی ؟ اسی طرح اسراء کے متعلق قرآن شریف اور حدیث دونوں سے ثابت ہے کہ وہ ایک روحانی امر تھا جو خاص مصالح کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا؛ چنانچہ قرآن شریف نے اس کے متعلق تین باتیں بیان کی ہیں۔اول یہ کہ سفر رات کے وقت ہوا جیسا کہ اسرای کے لفظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔دوم یہ کہ وہ ایک ہی رات کے دوران میں مکمل ہو کر ختم ہو گیا جیسا کہ کیلا کے لفظ سے پایا جاتا ہے اور سوم یہ کہ اس سفر کی غرض و غایت یہ تھی کہ ہم اپنے رسول کو اپنے بعض نشانات دکھا ئیں۔اب جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ تینوں باتیں اسراء کو ایک روحانی سیر ثابت کرتی ہیں نہ کہ ایک ظاہری اور جسمانی سفر۔کیونکہ اول تو عام حالات میں ظاہری سفر کا وقت دن ہے اور رات کے وقت سفر کرنا ایک استثنائی صورت رکھتا ہے اور اس کے مقابل پر روحانی سیر یعنی رؤیا وغیرہ کے لئے اصل وقت رات ہے اور دن کے وقت اس کا واقع ہونا ایک گونہ استثنائی رنگ رکھتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے رات کا لفظ استعمال کر کے یہ اشارہ فرمایا ہے کہ یہ ایک روحانی سفر تھا جو بصورت رؤیا وقوع پذیر ہوا۔ورنہ رات کے ذکر میں کوئی خاص حکمت لے : بخاری ابواب صفة التي باب تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ : بخاری ابواب بدء الخلق باب ذکر الملائکہ : بخاری کتاب التوحید باب قَوْله وَ كَلَّمَ اللَّهُ مُوسى تَكْلِيمًا ۴ : بخاری کتاب التفسیر باب تفسیر سورۃ نجم ۵ : ابن ہشام ذکر الاسراء 1 : سورۃ بنی اسرائیل : ۲