سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 194 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 194

۱۹۴ بھی ایسا ہی کروں گا اور اے قریش! میری تمہیں بھی یہ نصیحت ہے کہ اسے دکھ دینے کے درپے نہ ہو بلکہ اس کی نصرت اور اعانت کرو کہ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔اس کے بعد ابو طالب کی جلد ہی وفات ہوگئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات پر سخت صدمہ ہوا اور چونکہ ابو طالب ہمیشہ قریش کے مقابل میں آپ کے حامی اور محافظ رہے تھے، اس لیے ان کی وفات سے آپ کی پوزیشن اور بھی زیادہ نازک ہو گئی۔وفات کے وقت جو انبوی میں واقع ہوئی ابو طالب کی عمر اسی سال سے اوپر تھی۔۔ابو طالب گوزندگی بھر شرک پر قائم رہے اور اسی حالت میں ان کی وفات ہوئی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ انہیں اپنے باپ کی طرح سمجھا اور ان کی محبت و وفاداری اور خدمت واطاعت اور عزت واحترام کا وہ اعلیٰ نمونہ دکھایا جس کی نظیر نہیں ملتی۔دوسری طرف ابو طالب نے بھی آپ کے ساتھ ہمیشہ نہایت درجہ مربیانہ اور وفادارانہ سلوک رکھا اور اپنے آپ کو ہر قسم کی تکلیف میں ڈالنا گوارا کیا مگر آپ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ان کا یہ سلوک جہاں اُن کی اپنی شرافت و وفاداری کا ثبوت ہے وہاں اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ خواہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشر کا نہ خیالات کے ماتحت غلطی خوردہ خیال کرتے ہوں مگر جھوٹا اور دھوکا دینے والا ہر گز نہیں سمجھتے تھے اور آپ کے اعلیٰ اخلاق اور راست گفتاری اور اخلاص کے دل سے قائل تھے ، چنانچہ اس موقع پر میور صاحب لکھتے ہیں : ’ابو طالب نے باوجود اپنے بھتیجے کے مشن پر ایمان نہ لانے کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر جس رنگ میں ہر قسم کی تکلیف برداشت کی اور جس طرح اپنی ذات اور اپنے خاندان کو اپنے بھتیجے کی خاطر قربانی کے لیے پیش کیا، اس سے ابوطالب کی ذاتی شرافت و نجابت پر ایک نمایاں روشنی پڑتی ہے۔دوسری طرف ابوطالب کی یہ قربانیاں اس بات کا بھی قطعی ثبوت ہیں کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دعوئی میں مخلص خیال کرتا تھا۔یقیناً ابو طالب ایک خود غرض اور دھو کے باز انسان کے واسطے اس قدر قربانی کے لیے تیار نہیں ہو سکتا تھا اور اُسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات کو دیکھنے اور پڑتال کرنے کے لیے بھی غیر معمولی مواقع حاصل تھے۔“۔ابوطالب کی وفات سے چند دن بعد حضرت خدیجہ نے بھی انتقال کیا۔خدیجہ نے بڑی بڑی دکھ اور ،، : زرقانی جلد ا صفحه ۲۹۵ ، ۲۹۶ ۳ : لائف آف محمد صفحه ۱۰۳ : ابن سعد : طبری وابن سعد