سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 190 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 190

۱۹۰ إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ الله أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَاَرَاهُمُ الْقَمَرَ شَقَّتَيْن حَتَّى رَأَوْ حِرَاءً بَيْنَهُمَا یعنی کفار مکہ نے آپ سے کوئی معجزہ طلب کیا جس پر آپ نے انہیں چاند کو دوٹکڑوں میں دکھایا۔حتی کہ انہیں چاند کا ایک ٹکڑا حراء پہاڑی کے ایک طرف نظر آتا تھا اور دوسرا دوسری طرف۔“ اور ایک دوسری روایت میں جو عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے یہ الفاظ ہیں : انْشَقَّ الْقَمَرُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِي الله الله بِمَنِى فَقَالَ اشْهَدُوا۔۔۔۔۔فِرْقَةٌ فَوقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَةٌ دُونَهُ یعنی ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں تھے کہ چاند دوٹکڑے ہو گیا۔جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اور گواہ رہو۔ایک ٹکڑا پہاڑی کے اوپر کی جانب تھا اور دوسرا نیچے کی طرف۔“ اس کے علاوہ حدیث اور کتب سیرۃ میں شق القمر کے متعلق اور بھی بہت سی روایات ہیں جن میں بعض مزید تفصیلات بھی دی گئی ہیں مگر زیادہ معتبر روایات وہی ہیں جو او پر درج کر دی گئی ہیں۔علاوہ ازیں چونکہ ہمیں اس جگہ اس مسئلے کے متعلق مناظرانہ رنگ میں کوئی بحث کرنا مقصود نہیں اس لیے اس موقع پر صرف مندرجہ بالا روایات کا اندراج کافی ہے؛ البتہ ایک مختصر تشریحی نوٹ اس بات کے متعلق درج کرنا ضروری ہے کہ اس معجزہ کی حقیقت کیا تھی۔آیا واقعی چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھایا یہ کہ صرف دیکھنے والوں کی نظروں پر ایسا تصرف ہوا کہ چاند انہیں دوٹکڑوں میں نظر آیا۔نیز یہ کہ اس معجزہ کی غرض وغایت کیا تھی ؟ سواس کے متعلق جاننا چاہیئے کہ گو خدا کی قدرت کے آگے کوئی بات بھی انہونی نہیں اور جو شخص یہ ایمان رکھتا ہے کہ یہ سارا عالم خدا کے دست قدرت سے عالم وجود میں آیا ہے وہ اس بات کے ماننے میں ایک لمحہ کے لیے بھی تامل نہیں کر سکتا کہ اگر خدا چاہے تو اپنے ایک اشارہ سے اس کے سارے تار و پود کو ملیا میٹ کر کے رکھ دے مگر جہاں تک واقعہ کا تعلق ہے ثابت شدہ بات یہی ہے کہ چاند حقیقتا دوٹکڑے نہیں ہوا بلکہ خدائی تصرف کے ماتحت صرف دیکھنے والوں کو دوٹکڑوں میں نظر آیا تھا اور یہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں کیونکہ جب کہ ایک مشاق انسان اپنی قوت ارادی یعنی پینوٹزم کے زور سے دوسروں کو ایک مرئی چیز ل ، ۲ : بخاری ومسلم