سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 191
۱۹۱ اپنی غیر اصلی صورت میں دکھا سکتا ہے تو خدا کی قدرت اور اس کے رسول کی روحانی طاقت کے آگے تو یہ بات کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی کہ اس وقت دیکھنے والوں کی آنکھوں پر ایسا تصرف ہوا ہو کہ انہیں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹتا نظر آیا ہو۔بہر حال ہمارے نزدیک اصل حقیقت یہی ہے کہ چاند حقیقہ دوٹکڑے نہیں ہوا تھا بلکہ صرف دیکھنے والوں کو دوٹکڑوں میں نظر آیا تھا اور اگر غور کیا جاوے تو حدیث کے الفاظ بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ایک تصرف الہی تھا جو دیکھنے والوں کی نظروں پر کیا گیا اور اکثر محققین نے اسی تشریح کو صحیح قرار دیا ہے لیکن اگر بالفرض اس معجزہ کو اس کی ظاہری صورت میں بھی قبول کیا جائے تو پھر بھی ہرگز جائے اعتراض نہیں۔اللہ تعالیٰ کی قدرتیں لامحدود ہیں جن کی معمولی وسعت تک بھی انسان کی نظر نہیں پہنچ سکتی۔ابھی ۱۹۲۸ء کا واقعہ ہے کہ جنوبی امریکہ کے ملک لا پلاٹا میں ایک ستارہ دوٹکڑے ہوتا دیکھا گیا۔اس ستارے کا نام نو وا پکٹورس (Nova Pictoris) تھا جنوبی امریکہ کی سب سے بڑی رصد گاہ واقع جونس برگ نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور سائنسدان کہتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی آسمانی ستارہ دو ٹکڑے ہو گیا ہو یا پس کوئی تعجب نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خدائی تصرف کے ماتحت چاند میں سے کوئی ٹکڑا الگ ہو گیا ہو یا چاند دوٹکڑے ہو کر پھر مل گیا ہوا اور کوئی سائنسدان اس پر اعتراض نہیں کر سکتا لیکن حقیقت وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔واللہ اعلم اب رہا دوسرا سوال کہ اس معجزہ کی غرض و غایت کیا تھی اور دراصل اس بحث میں یہی اصل اور اہم سوال ہے کیونکہ اسی سے اس معجزہ کی حقیقت اور شان ظاہر ہو سکتی ہے۔سواس کے متعلق جاننا چاہئے کہ دراصل علم تعبیر رویا میں چاند سے حکومت و بادشاہ مراد ہوتے ہیں۔خواہ وہ عادل وانصاف پسند ہوں یا کہ ظالم و جابر ے اور اس تاویل کی متعدد مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں ؛ چنانچہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ جب خیبر کے یہودی رئیس حیی بن اخطب کی لڑکی صفیہ نے یہ خواب دیکھا کہ چاند اس کی گود میں آگرا ہے تو اس کے باپ نے اس کی یہی تعبیر کی تھی کہ صفیہ کسی دن عربوں کے بادشاہ کے عقد میں آئے گی ؛ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ فتح خیبر کے بعد صفیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئی۔اسی طرح جب حضرت عائشہ نے خواب دیکھا کہ ان کے حجرے میں تین چاند آگرے ہیں تو واقعات نے اس خواب کی یہی تعبیر ثابت کی کہ اس سے اُن کے حجرے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کا دفن ہونا مراد دیکھو ہندوستان ٹائمنر دہلی مؤرخہ ۲۹ را پریل ۱۹۲۸ء : دیکھو تعطیر الانام جلد ۲ زیر لفظ قمر ۳ : اسدالغا به وزرقانی حالات صفیه