سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 133
۱۳۳ آغاز رسالت طلوع آفتاب صبح کی سفیدی افق مشرق میں نمودار ہو رہی تھی اور آفتاب عالم تاب طلوع کرنے کو تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حسب معمول غار حرا میں تشریف لے جاتے اور اپنے رنگ میں عبادت الہی میں مصروف رہتے تھے۔رویا صالحہ کا آغاز ہو چکا تھا۔اسی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ ماہ گزارے۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال کی تھی اور طبیعت نبوت ورسالت کی پختگی کو پہنچ چکی تھی۔رمضان کا مبارک مہینہ تھا اور اس کے آخری عشرہ کے ایام تھے اور پیر کا دن تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حسب معمول غارِ حرا میں عبادت الہی میں مصروف تھے کہ یکلخت آپ کے سامنے ایک غیر مانوس ہستی نمودار ہوئی۔اُس ربانی رسول نے جو خدائی فرشتہ جبرائیل تھا آپ سے مخاطب ہو کر کہا۔" اقرأ پڑھ ، یعنی منہ سے بول یا لوگوں تک پہنچا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” مَا أَنَا بِقَارِيُّ “۔میں تو نہیں پڑھ سکتا۔یعنی میں تو یہ کام نہیں کر سکتا۔فرشتہ نے یہ جواب سنا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا اور اپنے سینے سے لگا کر بھینچا اور پھر چھوڑ کر کہا اقرأ مگر آنحضرت کی طرف سے پھر وہی جواب تھا۔فرشتہ نے پھر پکڑا اور زور سے بھینچا اور پھر چھوڑ کر کہا اقرا مگر ادھر سے پھر وہی تأمل تھا۔اس پر اُس ربانی رسول نے آپ کو تیسری دفعہ پکڑا اور نہایت زور سے بھینچا گویا اپنی انتہائی کوشش سے اس معانقہ کے ساتھ آپ کے قلب پر اثر ڈالتا تھا اور پھر اس تسلی کے بعد کہ اب آپ کی طبیعت اس ل : بیہقی بحوالہ زرقانی باب مبعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم : قَرَءَ کے معنے پیغام پہنچانے کے بھی ہوتے ہیں جیسے کہتے ہیں اِقْرَأْ مِنِّى السَّلَامَ یعنی میرا سلام اسے پہنچا دو۔دیکھوا قرب الموارد۔ے : یہ ایسا ہی جواب تھا جیسا کہ حضرت موسیٰ نے دیا تھا کہ میں نبوت کا اہل نہیں ہوں یہ کام کسی اور کے سپر دفر مایا جاوے۔مگر اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اس بات کو کون جانتا ہے کہ رسالت کا اہل کون ہے۔