سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 120 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 120

۱۲۰ کر کے اُن کے بوجھ کو ہلکا کریں؛ چنانچہ ابو طالب کی خواہش اور تحریک پر آپ نے تجارت کا کام شروع فرما دیا۔مکہ سے تجارت کے قافلے مختلف علاقوں کی طرف جاتے تھے۔جنوب میں یمن اور شمال میں شام کی طرف تو با قاعدہ تجارت کا سلسلہ جاری تھا۔اس کے علاوہ بحرین وغیرہ کے ساتھ بھی تجارت تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عموماً ان سب ملکوں میں تجارت کی غرض سے گئے۔اور ہر دفعہ نہایت دیانت و امانت اور خوش اسلوبی اور ہنر مندی کے ساتھ اپنے فرض کو ادا کیا۔مکہ میں بھی جن لوگوں کے ساتھ آپ کا معاملہ پڑا وہ سب آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے ؛ چنانچہ سائب ایک صحابی تھے۔وہ جب اسلام لائے تو بعض لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی تعریف کی۔آپ نے فرمایا۔میں ان کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔سائب نے عرض کی۔”ہاں یا رسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔آپ ایک دفعہ تجارت میں میرے شریک تھے اور آپ نے ہمیشہ نہایت صاف معاملہ رکھا۔عبد اللہ بن ابی الحمساء ایک اور صحابی بیان کرتے ہیں کہ بعثت سے پہلے میں نے ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی کاروباری معاملہ کیا اور میرے ذمہ آپ کا کچھ حساب باقی رہ گیا۔جس پر میں نے آپ سے کہا کہ آپ یہیں اسی جگہ ٹھہریں میں ابھی آتا ہوں۔مگر مجھے بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد آیا اس وقت جب میں اس طرف گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہیں کھڑے تھے۔مگر آپ نے سوائے اس کے مجھے کچھ نہیں کہا کہ تم نے مجھے تکلیف میں ڈالا ہے۔میں یہاں تین دن سے تمہارے انتظار میں ہوں۔‘ اس سے غالباً یہ مراد نہیں کہ آپ مسلسل تین دن تک اسی جگہ ٹھہرے رہے بلکہ منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ مناسب اوقات میں کئی کئی دفعہ اس جگہ جا کر دیر دیر تک عبداللہ کا انتظار فرماتے ہوں گے تاکہ عبد اللہ کو آپ کی تلاش کی وجہ سے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔اسی قسم کے واقعات سے مکہ والوں میں آپ کا نام امین مشہور ہو گیا تھا اور آپ کی دیانت اور امانت کی وجہ سے سب لوگ آپ کی بہت عزت کرتے تھے اور آپ کو نہایت راستباز اور صادق القول یقین کرتے تھے۔تجارتی کاروبار کا آغاز اس طرح ہوا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچیس سال کے قریب ل : نور النبراس اور مسند منبل بحوالہ سیرۃ النبی : ابوداؤد جلد ۲ صفحه ۳۳۴ : ابو داؤد جلد ۲ صفحہ ۳۱۷ : ابن ہشام