سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 119 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 119

119 کا اثر تھا کہ جب ایک دفعہ امیر معاویہ کے زمانہ میں اُن کے بھتیجے ولید بن عتبہ بن ابوسفیان نے جو اس وقت مدینہ کے امیر تھے حضرت حسین بن علی بن ابی طالب کا کوئی حق دبا لیا تو حضرت حسین نے کہا کہ ” خدا کی قسم اگر ولید نے میرا حق نہ دیا تو میں تلوار نکال کر مسجد نبوی میں کھڑا ہو جاؤں گا اور حلف الفضول کی طرف لوگوں کو بلاؤں گا۔جس وقت عبداللہ بن زبیر نے یہ سنا تو کہا کہ اگر حسین نے اس قسم کی طرف بلایا تو میں اس پر ضرور لبیک کہوں گا اور ہم یا تو اس کا حق دلوائیں گے اور یا اس کوشش میں سب مارے جائیں گے۔بعض اور آدمیوں نے بھی اسی قسم کے الفاظ کہے جس پر ولید آب گیا اور اس نے حضرت حسین کا حق ادا کر دیا۔یہ خیال رہے کہ عبداللہ بن زبیر بنو اسد میں سے تھے جو حلف الفضول میں شریک تھے۔حلیہ مبارک اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جوان تھے اور جسمانی نشو ونما مکمل ہو چکا تھا۔اس لیے اس موقع پر آپ کا حلیہ بیان کر دینا مناسب ہوگا۔لکھا ہے کہ آپ میانہ قد تھے۔رنگ بہت خوبصورت تھا یعنی نہ تو بہت ہی سفید جو بُرا لگے اور نہ ہی گندم گوں بلکہ گندم گوں سے کچھ سفید تھا۔سر کے بال بالکل سیدھے نوکدار نہ تھے بلکہ کسی قد رخدار تھے۔داڑھی گھنی اور خوبصورت تھی۔جسم درمیانہ تھا۔جلد نازک اور ملائم تھی اور آپ کے جسم اور پسینہ میں ایک قسم کی خوشبو پائی جاتی تھی۔سر بڑا تھا۔سینہ فراخ۔ہاتھ پاؤں بھرے بھرے۔ہتھیلیاں چوڑی۔چہرہ گول۔پیشانی اور ناک اونچی۔آنکھیں سیاہ اور روشن اور پلکیں دراز تھیں۔چلنے میں وقار تھا۔مگر عموما تیزی کے ساتھ قدم اٹھا تھا۔گفتگو میں آہنگی ہوتی تھی حتی کہ اگر سننے والا چاہے تو آپ کے الفاظ کو گن سکتا تھا۔ناراضگی کے وقت چہرہ سُرخ ہو جاتا تھا اور خوشی کے موقع پر بھی چمک اُٹھتا تھا۔انگلستان کا مشہور مؤرخ سرولیم میور آپ کا حلیہ بیان کر کے لکھتا ہے کہ : ' آپ کا سردارانہ رنگ ڈھنگ ایک اجنبی شخص کے دل میں کچھ رُعب پیدا کر دیتا تھا جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا لیکن جب اُسے آپ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا تھا اور وہ آپ سے واقف ہو جاتا تھا تو اس کے دل میں بجائے ڈر اور خوف کے عقیدت اور محبت کے جذبات پیدا ہونے لگتے تھے۔‘۳ مشاغل تجارت جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اب جوان تھے اور کاروبار زندگی میں مصروف ہونے کا وقت آ گیا تھا اور چونکہ ابو طالب کی مالی حالت بھی اچھی نہیں تھی اس لیے بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مناسب کام شروع لی : ابن ہشام : بخاری کتاب صفته النبی و شمائل ترمذی ۳ : میور صفحه ۲۵