سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 83 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 83

۸۳ برکت دُوں گا اور تیری نسل سے زمین کی ساری قومیں برکت پائیں گی۔‘ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ ذبیح وہ لڑکا ہے جس کی نسل میں وہ عظیم الشان نبی پیدا کیا جانا مقدر تھا جو بلا امتیاز قوم وملت ساری دُنیا کے لیے مبعوث ہونے والا تھا۔اور ظاہر ہے کہ یہ وعدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں آ کر پورا ہوا، کیونکہ آپ ہی وہ نبی ہیں جو ساری دُنیا کے لئے مبعوث ہوئے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ مجھ سے پہلے نبی صرف خاص خاص قوموں کی طرف آتے تھے مگر میں سب اقوامِ عالم کی طرف بھیجا گیا ہوں۔اس کے مقابل پر بنی اسرائیل کے آخری نبی یعنی حضرت مسیح ناصری کے یہ الفاظ خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں کہ ”میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔اور یہ کہ میں بچوں (یعنی بنی اسرائیل) کی روٹی کتوں ( یعنی غیر قوموں) کے آگے نہیں ڈال سکتا۔اسرائیلی نبیوں کی یہ محدود رسالت اور اس کے مقابل پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیر دعوت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ ساری قوموں کو برکت دینے کا وعدہ جو بیٹے کے ذبح کے انعام میں حضرت ابراہیم سے کیا گیا وہ حضرت اسحق کی اولاد میں نہیں بلکہ حضرت اسمعیل کی اولاد میں پورا ہوا۔اور یہ کہ ذیج حضرت اسمعیل تھے نہ کہ اسحق۔اس بحث کے ختم کرنے سے قبل ایک اور اعتراض کا جواب دینا بھی ضروری ہے جو بعض متعصب مسیحیوں کی طرف سے حضرت ہاجرہ کے متعلق کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ حضرت ہاجرہ محض ایک لونڈی تھیں اور حضرت ابرا ہیم کی اصل بیوی حضرت سارہ تھیں اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک لونڈی کی اولاد سے ہیں۔اس اعتراض کے متعلق پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ یہ اعتراض محض حسد اور عداوت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ورنہ ایک ہی منہ سے ایک ہی وقت میں یہ دو اعتراض نہیں نکل سکتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نسل اسمعیل میں سے نہیں ہیں اور یہ کہ آپ ایک لونڈی کی نسل سے ہیں۔کیونکہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔لیکن چونکہ غرض یہ ہے کہ اگر ایک اعتراض نشانہ پر نہ بیٹھے، تو دوسرا اس کی جگہ لینے کے لئے تیار ہو۔اس لیے ایک ہی سانس سے یہ گرم وسرد ہوا نکالی جارہی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ہر دواعتراض غلط اور غیر موثر ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نسل اسمعیل میں سے ہونے کی بحث تو او پر گذر چکی ہے اور حضرت ہاجرہ کے متعلق اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اول تو کسی یقینی دلیل سے ان کا لونڈی ہونا ثابت نہیں ہوتا۔عربی نسخوں میں ان کے متعلق عموماً جاریہ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنے ا : بخاری کتاب الصلوۃ باب جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِداً ۲ : متنی باب ۱۵ آیت ۲۴ : مرقس باب ۷ آیت ۲۷