سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 916 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 916

۹۱۶ نے ان کے ساتھ سلوک کیا۔اور اگر غور کیا جائے تو یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی ایک بھاری دلیل ہے۔کسری والے خط کے متعلق یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ جہاں قدیم مؤرخین نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ خسرو پرویز نے جو حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یمن کے والی کے نام جاری کیا تھا اس کا سبب وہ خط تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھجوایا وہاں بعض جدید محققین نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط لکھنے کا واقعہ بعد کا ہے اور خسرو پرویز کا حکم یہودی پرا پیگنڈے کی وجہ سے اس سے پہلے جاری ہو چکا تھا۔دوسرا اختلاف یہ ہے کہ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغی خط خسرو پرویز کے نام لکھا گیا تھا یا اس کے بیٹے شیرویہ کے نام؟ میں نے اس جگہ معروف خیال کی اتباع کی ہے یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط خسرو پرویز کے نام تھا اور اس نے آپ کے خلاف احکام جاری کئے تھے۔واللہ اعلم بالصواب۔دراصل میرے پاس اس وقت لاہور میں ان کتابوں کا پورا ذخیرہ موجود نہیں ہے جن کا مطالعہ اس قسم کے سوال کی کامل تحقیق کے لئے ضروری ہے۔اس لئے فی الحال معروف خیال درج کر دیا گیا ہے اور یہ اختلاف بھی ایسا نہیں ہے کہ جو زیادہ اہمیت رکھتا ہو۔اگر خدا نے چاہا تو بصورت ضرورت بعد میں اصلاح کی جاسکے گی۔مقوقس مصر کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تیسرا اخط bi مقوقس والی مصر کے نام تھا جو قیصر کے ماتحت مصر اور اسکندریہ کا والی یعنی موروثی حاکم تھا اور قیصر کی طرح مسیحی مذہب کا پیر تھا۔اس کا ذاتی نام جریج بن مینا تھا اور وہ اور اس کی رعایا قبطی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔یہ خط آپ نے اپنے ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ کے ہاتھ بھجوایا اور اس خط کے الفاظ یہ تھے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الْمَقَوْقَسِ عَظِيمِ الْقِبْطِ۔سَلامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّى اَدْعُوكَ بِدَعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمُ تُسْلَمُ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ۔فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْقِبْطِ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ الَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ زرقانی و مواہب اللد نیه