سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 917 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 917

۹۱۷ یعنی ” میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو بے مانگے رحم کرنے والا اور اعمال کا بہترین بدلہ دینے والا ہے۔یہ خط محمد خدا کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے قبطیوں کے رئیس مقوقس کے نام ہے۔سلامتی ہو اس شخص پر جو ہدایت کو قبول کرتا ہے اس کے بعد اے والیمصر ! میں آپ کو اسلام کی ہدایت کی طرف بلاتا ہوں۔مسلمان ہو کر خدا کی سلامتی کو قبول کیجئے کہ اب صرف یہی نجات کا رستہ ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو دوہرا اجر دے گا لیکن اگر آپ نے روگردانی کی تو (علاوہ خود آپ کے اپنے گناہ کے ) قبطیوں کا گناہ بھی آپ کی گردن پر ہوگا اور اے اہل کتاب اس کلمہ کی طرف تو آجاؤ جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے یعنی ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی صورت میں خدا کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں اور خدا کو چھوڑ کر اپنے میں سے ہی کسی کو اپنا آقا اور حاجت روا نہ گردانیں پھر اگر ان لوگوں نے روگردانی کی تو ان سے کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو بہر حال خدائے واحد کے فرمانبردار بندے ہیں۔جب حاطب بن ابی بلتعہ اسکندریہ میں پہنچے تو مقوقس کے حاجب یعنی در بان سے مل کر اس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پیش کیا۔مقوقس نے خط پڑھا اور پھر حاطب بن ابی بلتعہ سے مخاطب ہو کر نیم مذاقیہ رنگ میں کہا کہ اگر تمہارا یہ صاحب واقعی خدا کا نبی ہے تو ( اس خط کے بھجوانے کی بجائے ) اس نے میرے خلاف خدا سے یہ دعا ہی کیوں نہ کی کہ خدا اسے مجھ پر مسلط کر دے۔حاطب نے جواب دیا کہ اگر یہ اعتراض درست ہے تو وہ حضرت عیسی پر بھی پڑتا ہے کہ انہوں نے اپنے مخالفوں کے خلاف اس قسم کی دعا کیوں نہیں کی۔پھر حاطب نے مقوقس کو از راہ نصیحت کہا کہ آپ ( سنجیدگی کے ساتھ ) غور فرمائیں کیونکہ اس سے پہلے آپ کے اسی ملک مصر میں ایک ایسا شخص ( فرعون ) گزر چکا ہے جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہی ساری دنیا کا رب اور حاکم اعلیٰ ہے۔جس پر خدا نے اسے ایسا پکڑا کہ وہ اگلوں اور پچھلوں کے لئے عبرت بن گیا۔پس میں آپ سے مخلصانہ طور پر عرض کروں گا کہ آپ دوسروں کے حالات سے عبرت پکڑیں اور ایسے نہ نہیں کہ دوسرے لوگ آپ کے حالات سے عبرت پکڑیں۔مقوقس نے کہا بات یہ ہے کہ ہمیں پہلے سے ایک دین حاصل ہے اس لئے جب تک ہمیں اس سے کوئی بہتر دین نہ ملے ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے۔حاطب نے جواب دیا کہ اسلام وہ دین ہے جو سب دوسرے دینوں سے غنی کر دیتا ہے لیکن وہ یقیناً آپ کو اس بات سے نہیں روکتا کہ آپ حضرت مسیح ناصری پر بھی ایمان لائیں بلکہ