سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 915
۹۱۵ لکھا تھا کہ ”میں نے ملکی مفاد کے ماتحت اپنے باپ خسرو پرویز کو جس کا رویہ ظالمانہ تھا اور جو اپنے ملک کے شرفاء کو بے دریغ قتل کرتا جار ہا تھا قتل کر دیا ہے۔پس جب تمہیں میرا یہ خط پہنچے تو میرے نام پر اپنے علاقہ کے لوگوں سے اطاعت کا عہد لو۔اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرے باپ نے تمہیں عرب کے ایک شخص کے متعلق ایک حکم بھیجا تھا اسے اب منسوخ سمجھو اور میرے دوسرے حکم کا انتظار کرو۔“ جب باذان کو نئے کسری شیرویہ بن خسرو کا یہ فرمان پہنچا تو اس نے بے اختیار ہو کر کہا کہ پھر تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بات سچی نکلی۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کے برحق رسول ہیں اور میں ان پر ایمان لاتا ہوں۔چنانچہ اس نے اسی وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا اور اس کے ساتھ یمن کے کئی اور لوگ بھی مسلمان ہو گئے۔اور روایت آتی ہے کہ خسرو پرویز اسی رات قتل ہوا تھا جس رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق خدا سے اطلاع پائی تھی۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ قیصر و کسریٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوں کے ساتھ جو جو سلوک کیا اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے معاملہ کیا۔چنانچہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پھاڑ کر پھینک دینے کی وجہ سے کسری کی بھاری سلطنت چند سال کے اندر ریزہ ریزہ کر دی گئی وہاں قیصر کی طرف سے آپ کے خط کے ساتھ مؤدبانہ رویہ رکھنے پر خدا تعالیٰ نے اس کی نسل کو کافی لمبی مہلت دی اور اس کے خاندان نے سینکڑوں سال حکومت کی۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جب قیصر کا ایک تنوخی سفیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو آپ نے اسے یہ الفاظ فرمائے کہ : میں نے کسری کو ایک خط لکھا مگر اس نے اسے پھاڑ دیا۔اس کی وجہ سے میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا اسے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور اس کی سلطنت جلد تباہ ہوکر رہے گی مگر اس کے مقابل پر میں نے ایک خط تمہارے آقا قیصر کو بھی لکھا اور اس نے اس کے متعلق ادب کا رویہ اختیار کیا اور اسے اپنے پاس محفوظ کر لیا۔میں امید کرتا ہوں کہ جب تک ان میں نیکی کا مادہ ہے خدا اس کے خاندان کی کچھ نہ کچھ طاقت ضرور قائم رکھے گا۔“ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ بعینہ یہی ان دونوں حکومتوں کے ساتھ خدا کا سلوک ہوا بلکہ جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے ان دو خطوں کے علاوہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جو تبلیغی خطوط ان ایام میں لکھے اور ان خطوں کے پہنچنے پر مکتوب الیہم نے جو جو رویہ اختیار کیا اسی کے مطابق خدائے حکیم وقدیر طبری جلد ۳ صفحه ۱۵۷۲ تا صفحه ۵۷۴ او تاریخ خمیس زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۴۲