سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 914
۹۱۴ ،، ترجمان کے ہاتھ سے خط لے کر اسے یہ کہتے ہوئے ریزہ ریزہ کر دیا کہ میرا غلام ہوکر مجھے اس طرح مخاطب کرتا ہے! روایت آتی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سرٹی کی اس حرکت کی اطلاع پہنچی تو آپ نے دینی غیرت کے جوش میں فرمایا ” خدا خود ان لوگوں کو پارہ پارہ کرے۔۔اور ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ آپ نے اس موقع پر یہ الفاظ فرمائے تھے کہ اَمَا هَؤُلَاءِ فَيُمَزَّقُوْنَ یعنی ”اب لوگ خود ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے۔‘“۔کسری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کو پھاڑنے پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ یہودی پرا پیگینڈا کے گہرے تاثرات کے ماتحت اس نے اپنے یمن کے گورنر کو جس کا نام باذان تھا ہدایت فرمائی کہ حجاز میں جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس کی طرف فوراً د وطاقتور آدمی بھجوا دو تا کہ وہ اسے گرفتار کر کے ہمارے سامنے حاضر کریں اور ایک روایت یہ ہے کہ دو آدمی بھجوا کر اس سے تو بہ کراؤ اور اگر وہ انکار کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔چنانچہ باذان نے اس غرض کے لئے اپنے ایک قہرمان یعنی سیکرٹری کو جس کا نام بانو یہ تھا منتخب کیا اور اس کے ساتھ ایک مضبوط سوار مقرر کر کے مدینہ کی طرف بھجوادیا اور ان کے ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ایک خط بھی بھجوایا کہ آپ فوراً ان لوگوں کے ساتھ کسری کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔جب یہ لوگ مدینہ پہنچے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو باذان کا خط دے کر بطریق نصیحت سمجھایا کہ بہتر ہے آپ ہمارے ساتھ چلے چلیں ورنہ کسری آپ کے ملک اور قوم کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔آپ نے ان کی یہ بات سن کر تبسم فرمایا اور جواب میں اسلام کی تبلیغ کی اور پھر فرمایا کہ تم آج رات ٹھہرو میں انشاء اللہ تمہیں کل جواب دوں گا۔پھر جب وہ دوسرے دن آپ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ابْلِغَا صَاحِبَكُمَا أَنَّ رَبِّي قَتَلَ رَبَّهُ فِى هَذِهِ اللَّيْلَةِ - یعنی اپنے آقا ( والی یمن ) سے جا کر کہہ دو کہ میرے رب یعنی خدائے ذوالجلال نے اس کے رب یعنی کسری“ کو آج رات قتل کر دیا ہے۔“ چنانچہ بانو یہ اور اس کا ساتھی واپس لوٹ گئے اور باذان کے پاس جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔باذان نے کہا جو بات یہ شخص کہتا ہے اگر وہ اسی طرح ہو جائے تو پھر وہ واقعی خدا کا نبی ہوگا۔چنانچہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ باذان کو خسرو پرویز کے بیٹے شیرویہ کا ایک خط پہنچا جس میں ل : طبری و تاریخ خمیس و زرقانی : بخاری کتاب العلم و کتاب الجہاد ۳ : زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۳۲