سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 913 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 913

۹۱۳ قدیم اور مخلص صحابی عبد اللہ بن حذافہ سہمی کے ہاتھ بھجوایا۔اور انہیں ہدایت کی کہ آپ کے خط کو پہلے بحرین کے رئیس کے پاس لے جائیں اور پھر اس کے توسط سے کسری تک پہنچیں تے اس رئیس بحرین کا نام منذر بن ساوی تھا جو بحرین کے علاقہ میں کسریٰ کا نائب السلطنت تھا۔یہ خط بھی قیصر کے خط کی طرح با قاعدہ مہر لگا کر بھیجا گیا تھا اور اس کی عبارت یہ تھی : بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلَ اللَّهِ إِلَى كِسْرَى عَظِيمٍ فَارِسَ - سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَآمَنَ بِاللَّهِ وَرُسُولِهِ وَشَهِدَانُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - اَدْعُوكَ بِدَعَايَةِ اللَّهِ فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً لَانْذِرَ مَنْ كَانَ حَيَّ وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ - أَسْلِمُ تُسْلَمُ۔فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمَ الْمَجُوس یعنی ” میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو بے مانگے رحم کرنے والا اور اعمال کا بہترین بدلہ دینے والا ہے۔یہ خط خدا کے رسول محمد کی طرف سے فارس کے رئیس کسری کے نام ہے۔سلامتی ہو اس شخص پر جو ہدایت کو قبول کرتا ہے اور خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاتا اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے۔اور وہ اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔اے رئیس فارس! میں آپ کو خدا کی دعوت کی طرف بلاتا ہوں کیونکہ میں سب انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں تا کہ میں ہر زندہ انسان کو ہوشیار کر دوں اور تا انکار کرنے والوں پر خدا کا فیصلہ واجب ہو جائے۔اے رئیس فارس! آپ اسلام کو قبول کریں کیونکہ اب آپ کے لئے صرف اسی میں سلامتی کا رستہ ہے لیکن اگر آپ روگردانی کریں گے تو یا درکھیں کہ اس صورت میں ( آپ کے اپنے گناہ کے علاوہ ) آپ کی مجوس رعایا کا گناہ بھی آپ کی گردن پر ہو گا۔“ عبداللہ بن حذافہ کہتے ہیں کہ جب میں اس خط کے ساتھ کسری کے دربار میں پہنچا اور اجازت ملنے کے بعد کسری کے سامنے اس خط کو پیش کیا تو اس نے یہ خط اپنے ایک ترجمان کے سپرد کیا کہ تا وہ اسے پڑھ کر سنائے۔جب ترجمان نے اس خط کو پڑھا تو کسری اس کے مضمون کوسن کر غصہ سے بھر گیا اور زرقانی و تاریخ خمیس ۳: زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۴۱ بخاری کتاب العلم و کتاب الجہاد تاریخ خمیس و زرقانی بروایت واقدی