سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 911 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 911

۹۱۱ لئے تیار نہیں تھی جو کچی دینداری کے لئے ضروری ہے۔وہ اپنی دنیا کی جاہ وعظمت کھونے کے بغیر اپنے درباریوں کے جھرمٹ میں گھرا ہوا اسلام کی طرف قدم اٹھانا چاہتا تھا۔وہ ایک حد تک دین کا طالب ضرور تھا مگر دنیا کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھا اور یہی کمزوری اس کی ہلاکت کا باعث بن گئی۔بیشک ابوبکر اور عمر نے بھی دنیا کی بہترین نعمتوں اور عزتوں کا ورثہ پایا مگر انہوں نے اسلام کے ساتھ سودا نہیں کرنا چاہا۔وہ خالی ہاتھ ہو کر محض دین کی خاطر اسلام کی طرف آئے اور پھر خدا نے جو کسی کا قرضہ اپنے ذمہ نہیں رکھا کرتا انہیں وہ سلطنت عطا کی جس کے سامنے قیصر و کسریٰ کی مجموعی سلطنت بھی ماند تھی۔مگر قیصر خالی ہاتھ ہو کر اسلام کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے ڈرا۔اس نے اپنا کمزور ہاتھ اسلام کی طرف بڑھایا اور مضبوط ہاتھ اپنی حکومت کے عصا پر جمائے رکھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بٹے ہوئے دل کو نہ تو دین ہی ملا اور نہ ہی دنیا زیادہ دیر تک اس کے ہاتھوں میں ٹھہر سکی۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بڑا نکتہ شناس تھا اور آپ کسی کی ذراسی نیکی کو بھی فراموش کرنا نہیں جانتے تھے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع پہنچی کہ کسری نے تو آپ کا خط پھاڑ کر پھینک دیا ہے مگر قیصر نے گو آپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا لیکن بظاہر عزت اور ادب سے پیش آیا ہے تو آپ نے فرمایا : اَمَّا هَؤُلَاءِ فَيُمَزَّقُونَ وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَسَيَكُونَ لَهُمْ بَقِيَّةٌ یعنی ایرانی حکومت تو فوراً پاش پاش کر دی جائے گی مگر رومی حکومت کو خدا کچھ مہلت عطا کرے گا۔“ سو بعینہ یہی ہوا کہ کسریٰ کی حکومت تو چند سال کے اندر خاک میں مل گئی مگر قیصر کی سلطنت بہت ساحصہ چھینے جانے کے باوجود قسطنطنیہ اور اس کے گردونواح میں سینکڑوں سال تک قائم رہی۔فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ - سری کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کا دوسرا تلیفی خط کسری شہنشاہ فارس کے نام تھا۔جیسا کہ او پر بتایا جا چکا ہے کسری فارس کے بادشاہوں کا سرکاری اور موروثی لقب تھا اور جس زمانہ کا اہم ذکر کر رہے ہیں اس زمانہ میں فارس کے بادشاہ کا ذاتی نام خسرو پرویز بن ہرمز تھا جو اسیران کے مشہور ساسانی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔یہ بادشاہ جو بڑی شان و شوکت اور جاہ و جلال کا مالک تھا مذ ہبا آتش پرست یعنی مشرک کتاب الاموال بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۴۲ : خلافت اسلامیہ مصنفہ سرولیم میور