سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 910
۹۱۰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی زمانہ میں مقوقس مصر کو لکھ کر بھیجا۔یہ خط اپنی اصلی صورت میں دریافت ہو چکا ہے اور ہم اس کا ایک فوٹو آگے چل کر درج کر رہے ہیں۔اس خط میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی عبارت يأهْلَ الْكِتبِ تَعَالَوْا إلى كَلِمَةِ۔۔۔والی درج کرائی تھی۔پس جب یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہ عبارت مقوقس والے خط کا حصہ بھی تھی اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ مقوقس والا خط اور ہرقل والا خط ایک ہی زمانہ میں لکھے گئے تو پھر بہر حال ان خطوں کی صداقت کا معاملہ تو کسی صورت میں مشکوک نہیں سمجھا جا سکتا۔وَهُوَ الْمُرَادُ۔جو تبلیغی خط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قل کے نام لکھا وہ اپنے معانی اور الفاظ کی خوبصورتی اور جامعیت کے لحاظ سے ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی تحریر ہے۔اس تحریر کے الفاظ کو بہت مختصر ہیں مگر اس عبارت کا ایک ایک لفظ دلکش نگینوں کا حکم رکھتا ہے جو ایک اعلیٰ درجہ کے جڑاؤ زیور میں ایک باکمال ہنرمند نصب کرتا ہے۔حق یہ ہے کہ اس مختصر سے خط میں اسلام کی تبلیغ کا اور خصوصاً اس تبلیغ کا جو ایک مسیح کو مخاطب کر کے ہونی چاہئے بہترین نمونہ درج کر دیا گیا ہے اور اس میں تو حید کا بھی وہ جامع سبق موجود ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔اور پھر اسلوب بیان ایسا لطیف ہے کہ گویا بشارت وانذار کی دو کامل نہریں پہلو بہ پہلو رواں ہیں اور ایک طرف بلا وجہ دل دکھانے اور دوسری طرف مداہنت کے پردہ میں حق کو چھپانے کے بغیر اسلامی صداقت کا مکمل نقشہ کھینچ دیا گیا ہے اور آخر میں اپنے اس فولادی عزم کا اظہار بھی کر دیا گیا ہے کہ تم ما نویا نہ مانو ہم تو بہر حال اسلام کی خدمت کا بیڑا اٹھا چکے ہیں۔اَللهُمَّ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلِّمُ۔ہرقل والے خط کے واقعہ سے یہ بھاری سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ سچی قربانی کی روح کے بغیر کوئی بڑی صداقت قبول نہیں کی جاسکتی۔ہرقل کے وہ سوالات جو اس نے ابوسفیان سے کئے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ایک غیر معمولی عقل و دانش کا انسان تھا جس نے سلسلۂ رسالت اور سلسلہ ایمانیات کا کافی گہرا مطالعہ کیا ہوا تھا۔پھر اس نے جس طرح اسلام کی صداقت سے متاثر ہوکر اپنے درباریوں کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی ، وہ نہ صرف اس کی حسن تدبیر بلکہ ایک حد تک اس کے جذبہ دینداری کی بھی دلیل ہے۔مگر پھر بھی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ ایمان کی نعمت سے محروم رہا اور بالآخر اسلام کی فوجوں سے لڑتا ہوا اس جہان سے رخصت ہوا۔اس کی وجہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اس کی روح اس بھاری قربانی کے زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۴۲