سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 909
٩٠٩ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط بنام ہر قل میں ایک بات ایسی ہے جس کی بنا پر بعض عیسائی مؤرخین نے اعتراض کیا ہے اور اس کی وجہ سے خط کی صداقت کے متعلق بھی شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اعتراض یہ ہے کہ خط میں جو یہ الفاظ آتے ہیں کہ یاهْلَ الْكِتُبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءِ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ الآیة۔یہ سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیتوں میں سے ایک آیت ہے اور روایات سے ثابت ہے کہ سورۃ آل عمران کی ابتدائی اسی آئیتیں اس وقت نازل ہوئی تھیں جب 9 ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔اور چونکہ قیصر کے نام کا خط بہر حال صلح حدیبیہ کے معا بعد کا ہے اس لئے 9 ہجری میں نازل ہونے والی آیت ۶ ہجری یا ۷ ہجری میں لکھے جانے والے خط کا حصہ نہیں بن سکتی تھی۔لہذا ثابت ہوا کہ یہ خط کا قصہ سرے سے ہی درست نہیں ہے۔یہ وہ اعتراض ہے جو اس موقع پر کیا گیا ہے۔مگر یہ اعتراض کوئی نیا اعتراض نہیں خود مسلمان مؤرخوں کے سامنے یہ سوال آیا اور انہوں نے بڑی مفصل بحث کر کے اس کا جواب دیا ہے۔دراصل بات یہ ہے اور کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ بعض کلمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت عمر کی زبان سے نکلے اور پھر کچھ عرصہ بعد اسی کے مطابق قرآنی آیات کا نزول ہو گیا۔اور یہ صورت اعلیٰ درجہ کے تربیت یافتہ روحانی قلوب کے متعلق ہرگز بعید از قیاس نہیں کہ وہ اپنے خاص نو ر قلب یا مخصوص روحانی جس کی وجہ سے ایک الہامی صداقت کے نزول سے قبل ہی ان کی مخفی تاروں سے متاثر ہو کر اس کا اظہار کر دیں۔چنانچہ بدر کے قیدیوں کے ساتھ سلوک اور منافقین کی نماز جنازہ اور شراب کی حرمت اور احکام پردہ وغیرہ کے متعلق اس قسم کے متعدد واقعات تاریخ اور حدیث میں مذکور ہیں۔پس یہ ہرگز بعید از قیاس نہیں کہ اس موقع پر بھی یہ عبارت اولاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے از خود املاء فرمائی ہو اور پھر بعد میں وہی عبارت قرآنی آیات کی صورت میں نازل ہوگئی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سورۃ آل عمران کی شروع کی اسی آمیتیں سب کی سب وفد نجران کے وقت نازل نہ ہوئی ہوں بلکہ ان میں سے ایک آدھ آیت پہلے نازل ہو چکی ہو ، لیکن اکثریت کی وجہ سے یہ کہہ دیا ہو کہ پہلی اتنی آیتیں وفد نجران کے موقع پر نازل ہوئی تھیں۔یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آیت دو دفعہ نازل ہوئی ہو۔ایک دفعہ اوائل ہجرت میں اور دوسری دفعہ 9 ہجری میں وغیرہ وغیرہ۔مگر غالبا اس بحث میں سب سے زیادہ یقینی ثبوت اس اصل خط کے دریافت ہو جانے سے ملتا ہے جو ا: ابن سعد : فتح الباری و زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۳۸ چنانچہ ملاحظہ ہو فتح الباری و تفسیر ابن کثیر وزرقانی وغیرہ