سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 908 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 908

۹۰۸ ہے اور اسی طرح آپ کو شہنشاہ روم لکھنے کی بجائے رئیس روما لکھا ہے اور یہ دوسری ہتک ہے لیکن ہرقل نے اسے یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ یہ کون سی عقل کی بات ہے کہ ایک مدعی رسالت کی طرف سے خط آئے اور میں اسے پڑھے بغیر پھینک دوں؟ اور شاہ روما کی بجائے ”رئیس روما‘ کے الفاظ لکھنے میں کوئی بات نہیں ہے کیونکہ اصل بادشاہت تو خدا ہی کی ہے اور میں اور یہ مدعی دونوں اسی کے بندے ہیں۔یہ کہہ کر اس نے اپنے بھتیجے کے ہاتھ سے خط لے لیا اور حکم دیا کہ پبلک دربار سے قبل دحیہ کلبی کو سر کاری مہمان کے طور پر رکھا جائے یا مگر بہر حال اس میں شبہ نہیں کہ ہر قل کو اپنی بہت سی خوبیوں اور دانائیوں اور دور اندیشیوں کے باوجود دنیا کے خوف اور طاقت وعزت کی ہوس کی وجہ سے ہدایت نصیب نہیں ہوئی اور گویا ایمان کی چنگاری اس کے سینہ میں روشن ہوتے ہوتے بجھ کر رہ گئی۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ باوجود اس انکار اور محرومی کے اس کے دل کی گہرائیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت گھر کر چکی تھی۔چنانچہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس تبلیغی خط کو ایک تبرک کے طور پر اپنے پاس محفوظ رکھا۔اور وہ کئی سو سال تک اس کے خاندان میں محفوظ رہا۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جب شاہ منصور قلاون ( جو ساتویں صدی ہجری میں گزرا ہے ) کے بعض سفیر ایک دفعہ ملک الفرنج کے پاس گئے تو اس وقت ملک مذکور نے انہیں دکھانے کے لئے ایک سنہری ڈبہ منگوایا اور اس کے اندر سے ایک ریشمی رومال میں لپٹا ہوا خط نکال کر انہیں دکھایا کہ میرے ایک دادا ہر قل کے نام آپ کے رسول کا ایک خط آیا تھا وہ آج تک ہمارے گھر میں ایک متبرک تحفہ کے طور پر محفوظ ہے۔۔اگر شاہ منصور قلاون کے مزید حالات دیکھنے ہوں تو انسائیکلو پیڈیا آف اسلام " میں دیکھے جائیں۔ہر قل والے خط کے تعلق میں ایک روایت یہ بھی آتی ہے کہ جب پہلی دفعہ دحیہ کلبی قیصر کے سامنے پیش ہونے لگے تو ان سے کہا گیا کہ یہاں کا درباری آداب یہ ہے کہ قیصر کے سامنے جاتے ہی سجدہ میں گر جاتے ہیں اور پھر جب تک وہ خود نہ کہے سر نہیں اٹھاتے۔دحیہ نے کہا میں تو خدا کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کر سکتا خواہ مجھے اس کے سامنے جانے کا موقع ملے یا نہ ملے۔مگر پھر خدا نے ایسا فضل کیا کہ وہ اس خلاف اسلام حرکت کرنے کے بغیر ہی قیصر کے دربار میں باریاب ہو گئے۔هے ل : مواہب اللہ نیر وزرقانی ے فتح الباری بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۴۲ ،۳۴۳ ۵ : تاریخ خمیس جلد ۲ صفحه ۳۵ کتاب الاموال بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۴۲ نیز دیکھو صفحه ۳۳۹ : جلد ۲ صفحه ۶۸۵ تا ۶۸۷