سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 904
۹۰۴ قیصر۔پھر اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلتا رہا ہے؟ ابوسفیان۔یہ جنگ ایک اوپر چڑھنے والے اور نیچے گرنے والے ڈول کی طرح رہی ہے کہ کبھی اسے غلبہ ہو جاتا ہے اور کبھی ہمیں۔قیصر۔یہ مدعی تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے؟ ابوسفیان۔وہ کہتا ہے کہ خدا کو ایک سمجھو اور شرک نہ کرو اور وہ ہمیں اپنے باپ دادوں والی عبادت سے روکتا ہے اور کہتا ہے نماز پڑھو اور صدقہ دو اور برائیوں سے بچ کر رہو اور اپنے عہدوں کو پورا کرو اور امانتوں میں خیانت نہ کیا کرو۔اس سوال وجواب کے بعد قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ابوسفیان سے کہو کہ جب تم سے میں نے اس شخص کے حسب نسب کے متعلق پوچھا تھا تو تم نے جواب دیا تھا کہ وہ شریف خاندان سے ہے اور خدا کے رسول ہمیشہ شریف خاندانوں میں سے مبعوث کئے جاتے ہیں۔پھر میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا اس سے پہلے تم میں سے کسی شخص نے کبھی ایسا دعویٰ کیا ہے تو تم نے یہ جواب دیا کہ نہیں۔یہ میں نے اس لئے پوچھا تھا کہ اگر کسی اور نے ایسا دعویٰ کیا ہوتا تو یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ شاید یہ اس کی نقل کر رہا ہے۔پھر میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے اس کے دعوئی سے پہلے کبھی کسی بات میں اس کا جھوٹ دیکھا تو تم نے کہا کہ نہیں۔تو میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ جوشخص انسانوں پر جھوٹ نہیں بول سکتا وہ خدا پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہے۔پھر میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے اور تم نے کہا کہ نہیں۔یہ میں نے اس لئے پوچھا تھا کہ اگر اس کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو یہ خیال کیا جاسکتا تھا کہ شاید وہ اپنے خاندان کی کھوئی ہوئی بادشاہت کو واپس حاصل کرنا چاہتا ہے۔پھر میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا اسے بڑے بڑے لوگ مان رہے ہیں یا کہ کمزور اور غریب مزاج لوگ۔اور تم نے جواب دیا کہ کمزور اور غریب مزاج لوگ مان رہے ہیں اور حق یہ ہے کہ ( شروع شروع میں ) خدا کے رسولوں کو کمزور اور غریب مزاج لوگ ہی مانا کرتے ہیں۔پھر میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا اس کے ماننے والے زیادہ ہو رہے ہیں یا کہ کم ہو رہے ہیں؟ اور تم نے یہ جواب دیا کہ زیادہ ہور ہے ہیں اور ایمان کا یہی حال ہوا کرتا ہے کہ جب تک کہ وہ اپنے کمال کو نہیں پہنچ جاتا وہ برابر ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔پھر میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا کبھی کوئی شخص ایمان لانے کے بعد اس کے دین کو نا پسند کرنے کی وجہ سے مرتد ہوتا ہے۔تم نے کہا نہیں اور یہی بچے ایمان کا حال ہوتا ہے کہ جب وہ ایک دفعہ دل میں داخل ہو جائے