سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 902
۹۰۲ جائے لیکن ابھی یہ معاملہ اسی مرحلہ پر تھا کہ ہر قل کو ریاست غسان کے رئیس کی طرف سے یہ اطلاع پہنچی کہ عرب میں ایک شخص محمد نامی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اسے ملک میں کامیابی ہورہی ہے۔ہرقل نے اس خبر کے سننے پر ہدایت دی کہ فوراً معلوم کیا جائے کہ آیا عرب لوگ ختنہ کرتے ہیں یا نہیں۔جس پر اسے بتایا گیا کہ عرب لوگ ختنہ کرتے ہیں۔ہر قل نے بے ساختہ کہا۔تو پھر یہی اس امت کا بادشاہ معلوم ہوتا ہے اور ہرقل نے مزید احتیاط کے طور پر اپنے ایک رفیق کو جو ایک بڑا عالم انسان تھا رومیہ میں خط لکھا اور اس معاملہ میں اس کی بھی رائے پوچھیے لیکن اس عرصہ میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا خط ہرقل کو پہنچ گیا اور مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس جگہ بخاری کے الفاظ میں ہی یہ روایت درج کر دیں کیونکہ وہی اس تعلق میں صحیح ترین اور مفصل ترین روایت ہے۔سوعبداللہ بن عباس جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے بیان کرتے ہیں کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر کی طرف اسلام کی دعوت کا خط لکھا اور اپنا یہ خط دحیہ کلبی کے ہاتھ بھجوایا اور آپ نے دحیہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ آپ کے اس خط کو بصری کے رئیس کے پاس لے جائیں تا کہ وہ اسے آگے قیصر کے پاس بھجوا دے۔اس زمانہ میں قیصر روما سلطنت فارس کے خلاف فتح پانے کے شکرانے میں حمص سے ایلیا کی طرف پیدل چل کر آیا تھا اور ایلیا ( بیت المقدس ) میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہخط قیصر کو پہنچا۔قیصر نے جب خط کو پڑھا تو ہدایت دی کہ اگر اس مدعی رسالت کی قوم کا کوئی شخص یہاں موجود ہو تو اسے تلاش کر کے پیش کیا جائے۔ابن عباس کہتے ہیں کہ مجھے ابوسفیان سے معلوم ہوا ہے کہ وہ ان دنوں میں اپنے بعض قریش ساتھیوں کے ساتھ شام کی طرف تجارت کی غرض سے گیا ہوا تھا اور یہ صلح حدیبیہ - احدیبیہ کے بعد کا زمانہ تھا۔ابوسفیان نے بتایا کہ قیصر کے آدمی ہمیں تلاش کر کے ایلیا میں لے گئے اور قیصر کے سامنے پیش کیا۔اس وقت قیصر اپنی پوری شان کے ساتھ دربار میں بیٹھا ہوا تھا اور اس کے سر پر حکومت کا تاج تھا اور اس کے اردگر دروما کے بڑے بڑے درباری موجود تھے۔قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان عرب لوگوں سے پوچھو کہ اس مدعی رسالت کا سب سے قریبی رشتہ دار کون ہے۔ابوسفیان نے عرض کیا میں ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے قریبی رشتہ دار ہوں اور وہ رشتہ میں میرے چا کا بیٹا ہے۔ابوسفیان بیان کرتا ہے کہ قیصر نے مجھے اپنے قریب بلایا اور میرے ساتھیوں کو اپنے سامنے مگر میری پیٹھ کی طرف کھڑا کر دیا۔پھر اس نے ترجمان سے کہا کہ اس کے ساتھیوں سے کہہ دو کہ میں اس سے اس شخص کے ا بخاری باب کیف کان بداء الوحی