سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 890 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 890

190 ياَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِغْ مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبَّكَ وَ إِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ یعنی اے خدا کے رسول جو کچھ بھی تجھ پر تیرے رب کی طرف سے اُتارا گیا ہے وہ لوگوں تک کھول کھول کر پہنچا دے اور اگر تو نے ایسا نہ کیا ( اور کسی حصہ کو چھپا کر رکھا اور کسی کو بیان کر دیا ) تو جان لے کہ اس صورت میں تو خدا کی رسالت کو پہنچانے والا نہیں سمجھا جائے گا۔“ اور یہ فریضہ تبلیغ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ آپ پر ایمان لانے والوں کا بھی یہی فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اسلام کی صداقتوں کو دوسروں تک پہنچا ئیں چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ یعنی اے مسلمانو! تم دنیا کی بہترین امت بنا کر اقوام عالم کے فائدہ کے لئے قائم کئے گئے ہو۔تمہارا یہ کام ہے کہ لوگوں کو اسلام کی نیکی کی طرف بلا ؤ اور خلاف اسلام بدی سے روکو۔“ پھر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر حکم دیتا ہے کہ مسلمانوں کا ایک حصہ ہمیشہ تبلیغ اسلام کی خدمت کے لئے وقف رہنا چاہئے جو گویا اپنے آپ کو کلیتاً خدمت دین کے لئے وقف کر دے چنانچہ فرماتا ہے: وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَيْكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : یعنی چاہئے کہ تم میں سے ملت کا ایک حصہ تبلیغ حق کے لئے وقف رہے اس کا کام لوگوں کو نیکی کی طرف بلانا اور بھلائی کی تلقین کرنا اور بدی سے روکنا ہو اور بات یہ ہے کہ یہی لوگ حقیقتاً با مراد ہیں۔66 دین کے معاملہ میں جبر جائز نہیں فریضہ تبلیغ کی طرف توجہ دلانے کے ساتھ ہی قرآن شریف یہ اصول سکھاتا ہے کہ تبلیغ ہمیشہ نہایت احسن طریق پر حکمت و دانائی کے رنگ میں ہونی چاہئے تا کہ صداقت پسند مخاطب کے دل میں ضد اور دوری پیدا ہونے کی : سورۃ المائده : ۶۸ : سورة آل عمران : 11: ے : سورة آل عمران : ۱۰۵