سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 889 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 889

۸۸۹ اسود و احمر کے نام اسلام کا پیغام قیصر و کسریٰ کو دعوت حق ہم بتا چکے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے ساتھ اسلام کی تاریخ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔یہ نیا دور کامل امن کا دور تو ہر گز نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ ابھی تک عرب کے بہت سے قبیلے اسلام کے خلاف برسر پیکار تھے لیکن ہاں چونکہ عربوں میں قریش کا قبیلہ خانہ کعبہ کا متولی ہونے کی وجہ سے عموماً سارے قبیلوں میں معزز سمجھا جاتا تھا اور اسلام کے خلاف جنگ کی ابتدا بھی اسی قبیلہ کی طرف سے ہوئی تھی اس لئے قریش کے ساتھ صلح کا معاہدہ ہو جانے کے نتیجہ میں ملک کے ایک حصہ میں عارضی امن کی صورت ضرور پیدا ہو گئی تھی اور اس جزوی امن کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پہلا قدم اٹھایا وہ آپ کے خداداد منصب نبوت کے تبلیغی پہلو کا ایک نہایت شاندار کارنامہ تھا۔ہماری مراد ان تبلیغی مراسلات سے ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے معابعد مختلف ملکوں کے بادشاہوں اور رئیسوں کے نام ارسال فرمائے اور اس بات کا عملی ثبوت پیش کیا کہ آپ کی توجہ کا مرکزی نقطہ تبلیغ اسلام ہے۔یعنی اس ابدی اور آخری صداقت کا اقوام عالم تک پہنچا نا جو خداوند عالم نے آپ کے ذریعہ دنیا میں نازل فرمائی مگران عالمگیر تبلیغی خطوط کے ذکر سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے تبلیغی مذہب ہونے کے متعلق ایک اصولی نوٹ درج کر کے ناظرین کو بتایا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغی نظر یہ کیا تھا اور آپ کی بعثت کی غرض کتنے وسیع میدان پر پھیلی ہوئی تھی۔اسلام کا تبلیغی نظریہ سو سب سے پہلے جانا چاہئے کہ اسلام ایک تبلیغی مذہب ہے اور اس کے مقدس بانی کو حکم دیا گیا ہے کہ جو صداقت بھی اسلام کے ذریعہ آسمان سے نازل ہوئی ہے اسے اپنے آپ تک چھپا کر نہ رکھے بلکہ لوگوں تک پہنچائے۔اور اس کے سارے پہلوؤں کو کھول کھول کر بیان کر دے۔چنانچہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کر کے فرماتا ہے: