سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 886 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 886

ΑΛΥ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا ڈالا۔یہ وہ ٹھوس اور بولتے ہوئے اعدادوشمار ہیں جن پر کسی متعصب سے متعصب انسان کا تعصب بھی پردہ نہیں ڈال سکتا۔آؤ اب ذرا ان اعداد و شمار کی مزید تفصیل میں جا کر پورا حساب نکالیں کہ اسلام کی امن کی طاقت کو اس کی جنگ کی طاقت کے مقابلہ پر کیا وزن حاصل ہے۔موٹے طور پر ہم دیکھ چکے ہیں کہ جنگ کے انیس سالوں نے چودہ سو مسلمان پیدا کئے اور اس کے مقابل پر امن کے دو سالوں نے اس تعداد میں آٹھ ہزار چھ سو مسلمانوں کا اضافہ کیا لیکن اگر زیادہ حسابی نظر سے دیکھا جائے تو جو زمانہ ہم نے انیس سال کا شمار کیا ہے وہ دراصل کسروں میں جا کر اٹھارہ اور انیس سال کے درمیان یعنی قریباً ساڑھے اٹھارہ سال بنتا ہے اسی طرح ہم نے صلح حدیبیہ کے وقت جو تعداد چودہ سو شمار کی ہے اس کے متعلق صحیح روایات سے پتہ لگتا ہے کہ دراصل وہ چودہ سو اور پندرہ سو کے درمیان تھی یے یعنی اسے ساڑھے چودہ سو سمجھنا چاہئے مگر ا بھی اس کے علاوہ ایک اور فرق بھی ہے جو صحیح حسابی نتیجہ پر پہنچنے کے لئے دور کرنا ضروری ہے۔وہ فرق یہ ہے کہ تاریخ و حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دعوی نبوت کے ابتدائی تین سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل خاموشی کے ساتھ انفرادی تبلیغ میں گزارے تھے اور اسلام کی تبلیغ کو عام نہیں کیا تھا۔پس ان ابتدائی تین سالوں کو ساڑھے اٹھارہ سال کے عرصہ میں سے منہا کرنا ضروری ہے۔اس طرح جنگ کے زمانہ میں اصل تبلیغی جد و جہد کا عرصہ ساڑھے پندرہ سال بنتا ہے۔گویا نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ والے ساڑھے پندرہ سال میں ساڑھے چودہ سو مرد مسلمان ہوئے اور اس کے مقابل پر امن و صلح والے دو سال میں اس تعداد پر آٹھ ہزار پانچ سو پچاس کا اضافہ ہوا۔اس طرح ان دونوں زمانوں کا خلاصہ یہ نکلا کہ جنگ والے زمانہ کی رفتار ترقی ۱۴۵۰ : ۱۵ یعنی ۲۹ فی سال بنی اور امن و صلح والے زمانہ کی رفتار ۸۵۵۰ فی سال نکلی اور اگلا حساب ایک بچہ بھی نکال سکتا ہے جو یہ ہے کہ ان دونوں کی باہمی نسبت ایک کے مقابلہ پر چھیالیس بنتی ہے۔یعنی اگر جنگ کے زمانہ کی تبلیغی طاقت کا نتیجہ ایک ہو تو اس کے مقابل پر امن کے زمانہ کی تبلیغی طاقت کا نتیجہ چھیالیس ہوگا اور یہ بعینہ وہی نسبت ہے جو ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عام مومن کے مقابلہ پر ایک نبی اللہ کی قرار دی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِّنْ سِنَةٍ وَّاَرْبَعِينَ جُزُاً مِّنَ النُّبُوَّةِ - یعنی ” ایک مومن کی سچی رؤیا ایک نبی کی نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتی ہے۔“ زرقانی بحوالہ بخاری تاریخ خمیس س بخاری کتاب التعبير