سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 879 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 879

129 کسی اور جگہ چلا گیا تو اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے اور معاہدہ کی وہ کون سی شرط ہے جس کے مطابق آپ اس بات کے پابند تھے کہ خواہ ملکہ سے بھا گا ہوا شخص کہیں بھی ہو آپ اسے مکہ میں واپس پہنچا دینے کے ذمہ دار ہوں گے۔افسوس ! افسوس !! اسلام کے دشمنوں نے کسی بات میں بھی اسلام سے انصاف نہیں کیا۔اور اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابو بصیر کو اس کے قائم کردہ کیمپ میں حکم بھجوا سکتے تھے کہ تم مدینہ واپس چلے آؤ اور یہ کہ چونکہ آپ نے ایسا نہیں کیا اس لئے آپ نے گویا معاہدہ کے الفاظ کو تو نہیں مگر ان کی روح کو توڑا۔سو یہ اعتراض بھی ایک سراسر جہالت کا اعتراض ہے اور خود معاہدہ کے الفاظ اور ان الفاظ کی روح اسے رد کرتے ہیں۔معاہدہ کی یہ شرط کہ اگر کوئی مکہ کا رہنے والا مسلمان بھاگ کر مدینہ میں پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس لوٹا دیں گے صاف طور پر ثابت کرتی ہے کہ اس شرط کی غرض و غایت یہ تھی کہ ایسے شخص کو باوجود اس کے مسلمان ہونے کے مدینہ کی اسلامی سیاست کے دائرہ میں قبول نہیں کیا جائے گا یعنی گو وہ عقیدہ کی رو سے مسلمان ہو گا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی مدنی سیاست میں شریک نہیں کریں گے۔تو جب ایسا شخص خود معاہدہ کی شرائط کے ماتحت مدینہ کی اسلامی سیاست سے خارج قرار دیا گیا تھا تو اس کے متعلق یہ مطالبہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ وہ جہاں بھی ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم دے کر واپس لوٹا دیں گے۔پس یہ کتنا بھاری ظلم ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کو مدینہ میں رکھتے ہیں تو آپ پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ آپ کا معاہدہ تھا کہ مسلمان ہونے کے باوجود آپ اسے اپنی سیاست میں شامل نہیں کریں گے اور اگر آپ اسے اپنی مدنی سیاست سے خارج کر کے اہل مکہ کے سپرد کرتے اور مدینہ سے نکالتے ہیں تو پھر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ اسے اپنی سیاست میں شامل کر کے حکم کیوں نہیں بھجواتے۔پس سیاسی لحاظ سے یہ ایک ایسا بودا اور ایسا کمزور اور ایسا لا یعنی اعتراض ہے کہ کوئی سمجھ دار شخص اس کی طرف توجہ نہیں کرسکتا اور حق یہ ہے کہ یہ نامعقول شرط جو کفار کی طرف سے معاہدہ میں شامل کی گئی تھی کہ کسی مسلمان مہاجر کو مدینہ میں پناہ نہ دی جائے خدا نے اسی کو ان کے لئے عذاب بنا کر بتا دیا کہ ہمارے رسول نے تو بہر حال معاہدہ کی پابندی کی مگر تم نے اپنے رستہ میں خود کانٹے ہوئے اور خود اپنے ہی بنائے ہوئے ہتھیار سے اپنے ہاتھ کاٹے۔جب تم نے خود کہا کہ ملکہ کا جو نو جوان بھی مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں نہیں رکھیں گے اور یہ کہ وہ مدینہ کی سیاست سے خارج سمجھا جائے گا تو پھر اسی منہ سے تم یہ