سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 875 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 875

۸۷۵ کل اس کے ساتھ ہمارے ایک معاہدہ کی میعاد چل رہی ہے اور میں نہیں کہہ سکتا کہ اس معاہدہ کے اختتام تک اس کی طرف سے کیا امر ظاہر ہو۔ابوسفیان کہتا ہے کہ اس ساری گفتگو میں میرے لئے اس فقرہ کے بڑھا دینے کے سوا کوئی اور موقع نہیں تھا کہ میں آپ کے خلاف ہر قل کے دل میں کوئی امکانی شبہ پیدا کر سکوں۔“ ابوسفیان اور ہر قل کی یہ گفتگو صلح حدیبیہ کے معابعد نہیں ہوئی تھی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہر قل کے نام تبلیغی خط تیار کر کے روانہ کرنے اور پھر اس خط کے ہرقل تک پہنچنے اور پھر ہر قل کی طرف سے دربار منعقد ہونے اور ابو سفیان کو تلاش کر کے اپنے دربار میں بلانے وغیرہ میں لازماً وقت لگا ہوگا اور قرین قیاس یہ ہے کہ اس وقت تک ابو بصیر کے مدینہ میں بھاگ آنے اور اُم کلثوم وغیرہ مسلمان عورتوں کے مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچ جانے کے واقعات ہو چکے ہوں گے۔اسی لئے سب مؤرخ ابو بصیر اور اُم کلثوم والے واقعہ کو پہلے اور قیصر روم والے خط کے واقعہ کو اس کے بعد بیان کرتے ہیں مگر با وجود اس کے ابوسفیان ہرقل کے دربار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عہد شکنی کا الزام نہیں لگا سکا حالانکہ اس کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس کی یہ خواہش تھی کہ اگر کوئی ہاتھ پڑ سکے تو دریغ نہ کروں مگر باوجوداس کے تیرہ سوسال بعد میں پیدا ہونے والے نقاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر عہد شکنی کا الزام لگاتے ہوئے خدا کا خوف محسوس نہیں کرتے۔افسوس صد افسوس! پھر اگر ان اعتراضوں کی تفصیل میں جائیں تو ان کا بودا پن اور بھی زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے مثلاً پہلا اعتراض یہ ہے کہ دراصل معاہدہ میں مرد اور عورتیں دونوں شامل تھیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زبر دستی سے کام لے کر عورتوں کو مستثنیٰ قرار دے دیا لیکن جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہ اعتراض بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کیونکہ معاہدہ کے وہ الفاظ جو صیح ترین روایت میں بیان ہوئے ہیں ان میں صراحتاً مذکور ہے کہ معاہدہ میں صرف مرد مراد تھے نہ کہ مرد اور عورتیں دونوں۔چنانچہ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں صحیح بخاری میں معاہدہ کے یہ الفاظ درج ہیں : ما لا يَاتِيكَ مِنَّارَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا یعنی ”ہم میں سے جو مرد بھی آپ کی طرف جائے گا وہ خواہ مسلمان ہی ہوگا اسے ہماری طرف لوٹا دیا جائے گا۔“ بخاری کتاب الشروط