سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 864
۸۶۴ جنگ بندر ہے گی یا اس معاہدہ کی دو نقلیں کی گئیں اور بطور گواہ کے فریقین کے متعدد معززین نے ان پر دستخط ثبت کئے۔مسلمانوں کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ( جو اس وقت تک مکہ سے واپس آچکے تھے ) عبد الرحمن بن عوف ، سعد بن ابی وقاص اور ابوعبیدہ تھے۔معاہدہ کی تکمیل کے بعد سہیل بن عمر و معاہدہ کی ایک نقل لے کر مکہ کی طرف واپس لوٹ گیا اور دوسری نقل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہی۔صحابہ میں اضطراب جب سہیل واپس جاچکا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ لواب اٹھو اور یہیں اپنی قربانیاں ذبح کر کے سروں کے بال منڈوا دو ( قربانی کے بعد سر کے بالوں کو منڈوایا یا کتر وایا جاتا ہے ) اور واپسی کی تیاری کرو۔مگر صحابہ کو اس بظاہر رسوا کن معاہدہ کی وجہ سے سخت صدمہ تھا اور ساتھ ہی جب انہیں اس طرف خیال جاتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایک خواب کی بنا پر یہاں لائے تھے اور اللہ تعالیٰ نے خواب میں طواف بیت اللہ کا نظارہ بھی دکھایا تھا تو ان کی طبیعت بہت ہی مضمحل ہونے لگتی تھی اور وہ قریباً بے جانوں کی طرح بے حس وحرکت پڑے تھے۔انہیں خدا کے رسول پر پورا پورا ایمان تھا اور اس کے وعدہ پر بھی کامل یقین تھا مگر لوازمات بشریت کے ماتحت ان کے دل اس ظاہری ناکامی پر غموں سے نڈھال تھے اس لئے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا کہ اب یہیں قربانی کے جانور ذبح کر دو اور واپس لوٹ چلو تو کسی صحابی نے سامنے سے حرکت نہ کی۔اس لئے نہیں کہ وہ نعوذ باللہ اپنے رسول کے نافرمان تھے کیونکہ صحابہ سے بڑھ کر دنیا کے پردے پر کوئی فرمانبردار جماعت نہیں گزری۔پس ان کی طرف سے یہ عدم تعمیل بغاوت یا نا فرمانی کے رنگ میں نہ تھی بلکہ اس لئے تھی کہ غم اور ظاہری ذلت کے احساس نے انہیں اتنا نڈھال کر رکھا تھا کہ وہ گویا سنتے ہوئے نہ سنتے تھے اور دیکھتے ہوئے بھی ان کی آنکھیں کام نہ کرتی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد کو دوبارہ سہ بارہ دہرایا مگر کسی صحابی نے سامنے سے حرکت نہ کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا صدمہ ہوا اور آپ خاموش ہو کر اپنے خیمہ کے اندر تشریف ابوداؤ د کتاب الجہاد باب فی صلح العد و وابن ہشام وابن سعد : ابن سعد وزرقانی ملاحظہ ہو کہ با وجود سخت اختلاف رائے کے حضرت عمر دستخط کرنے میں قطعا متائل نہیں ہوئے ابن ہشام ۵: ابن سعد و طبری و زرقانی