سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 865 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 865

۸۶۵ لے گئے۔اندرون خیمہ آپ کی حرم محترم حضرت ام سلمہ جو ایک نہایت زیرک خاتون تھیں یہ سارا نظارہ دیکھ رہی تھیں۔انہوں نے اپنے موقر اور محبوب خاوند کو فکر مند حالت میں اندر آتے دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے آپ کے فکر و تشویش کی تفاصیل معلوم کیں تو ہمدردی اور محبت کے انداز میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ رنج نہ فرمائیں آپ کے صحابہ خدا کے فضل سے نافرمان نہیں۔مگر اس صلح کی شرائط نے انہیں غم سے دیوانہ بنا رکھا ہے۔پس میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ ان سے کچھ نہ فرما ئیں بلکہ خاموشی کے ساتھ باہر جا کر اپنے قربانی کے جانور کو ذبح فرما دیں اور اپنے سر کے بالوں کو منڈ اود میں پھر آپ کے صحابہ خود بخود آپ کے پیچھے ہو لیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تجویز پسند آئی اور آپ نے باہر تشریف لا کر بغیر کچھ کہے اپنے قربانی کے جانور کو ذبح کر کے اپنے سر کے بال منڈوانے شروع کر دئے۔صحابہ نے یہ منظر دیکھا تو جس طرح ایک سویا ہوا شخص کوئی شور وغیرہ بن کر اچانک بیدار ہوتا ہے وہ چونک کر اٹھ کھڑے ہوئے اور دیوانہ وار اپنے جانوروں کو ذبح کرنا شروع کر دیا اور ایک دوسرے کے سر کے بال مونڈنے لگے مگر غم نے اس قدر بے چین کر رکھا تھا کہ راوی بیان کرتا ہے کہ اس وقت ایسا عالم تھا کہ ڈر تھا کہ مسلمان کہیں ایک دوسرے کے بال مونڈ تے مونڈتے ایک دوسرے کا گلا ہی نہ کاٹ دیں لے بہر حال حضرت ام سلمہ کی تجویز کارگر ہوئی اور جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے الفاظ وقتی طور پر ناکام رہے تھے آپ کے عمل نے سوتے ہوؤں کو چونکا کر بیدار کر دیا۔یبیہ سے واپسی اور سورۃ فتح کا نزول قربانی وغیرہ سے فارغ ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف واپسی کا حکم دیا۔اس وقت آپ کو حدیبیہ میں آئے کچھ کم ہیں یوم ہو چکے تھے۔جب آپ واپسی سفر میں عسفان کے قریب کراع النعمیم میں پہنچے اور یہ رات کا وقت تھا تو اعلان کرا کے صحابہ کو جمع کروایا اور فرمایا کہ آج رات مجھ پر ایک سورۃ نازل بخاری کتاب الشروط وزرقانی ہے : اس موقع پر اکثر صحابہ نے تو اپنے سر کے بال منڈوا دیئے تھے مگر بعض نے صرف کتروانے پر اکتفا کی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منڈوانے والوں کو مکر رسہ مکر رد عادی۔لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ آپ نے منڈوانے والوں کو تین دفعہ دعا دی ہے اور کتروانے والوں کے لئے صرف ایک دفعہ دعائیہ الفاظ فرمائے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ بال منڈوانے والے لوگ وہ ہیں جو اس وقت شک میں مبتلا نہیں ہوئے مگر بال کتر وانے والے شک میں مبتلا ہو گئے۔ابن ہشام