سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 861 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 861

۸۶۱ گا خواہ مسلمان ہو۔اور اگر ایسا کوئی شخص مسلمانوں کی طرف جائے گا تو اسے واپس لوٹا دیا جائے گا۔صحابہ نے اس پر شور مچایا کہ سبحان اللہ ! یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مسلمان ہو کر آئے اور ہم اسے لوٹا دیں۔اسی بات پر جھگڑا ہو رہا تھا کہ اچانک قریش مکہ کے سفیر سہیل بن عمرو کالڑ کا ابوجندل بیڑیوں اور ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا اس مجلس میں گرتا پڑتا آپہنچا۔اس نو جو ان کو اہل مکہ نے مسلمان ہونے پر قید کرلیا تھا اور سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔جب اسے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے اس قدر قریب تشریف لائے ہوئے ہیں تو وہ کسی طرح اہل مکہ کی قید سے چھوٹ کر اپنی بیٹریوں میں جکڑا ہوا گرتا پڑتا حدیبیہ میں پہنچ گیا اور اتفاق سے پہنچا بھی اس وقت جب کہ اس کا باپ معاہدہ کی یہ شرط لکھا رہا تھا کہ ہر شخص جو مکہ والوں میں سے مسلمانوں کی طرف آئے وہ خواہ مسلمان ہی ہو، اسے واپس لوٹا دیا جائے گا۔ابو جندل نے گرتے پڑتے اپنے آپ کو مسلمانوں کے سامنے لا ڈالا اور دردناک آواز میں پکار کر کہا کہ ”اے مسلمانو! مجھے محض اسلام کی وجہ سے یہ عذاب دیا جا رہا ہے ،خدا کے لئے مجھے بچاؤ “ مسلمان اس نظارہ کو دیکھ کر تڑپ اٹھے مگر سہیل بھی اپنی ضد پر اڑ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا۔یہ پہلا مطالبہ ہے جو میں اس معاہدہ کے مطابق آپ سے کرتا ہوں اور وہ یہ کہ ابوجندل کو میرے حوالہ کر دیں۔آپ نے فرمایا ” ابھی تو معاہدہ تکمیل کو نہیں پہنچا۔سہیل نے کہا اگر آپ نے ابو جندل کو نہ لوٹا یا تو پھر اس معاہدہ کی کارروائی ختم سمجھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' آؤ آؤ، جانے دو اور ہمیں احسان ومروت کے طور پر ہی ابوجندل کو دے دو۔سہیل نے کہا نہیں نہیں یہ کبھی نہیں ہوگا۔آپ نے فرمایا سہیل ! ضد نہ کرو۔میری یہ بات مان لو۔سہیل نے کہا میں یہ بات ہرگز نہیں مان سکتا۔اس موقع پر ابوجندل نے پھر پکار کر کہا۔اے مسلمانو! کیا تمہارا ایک مسلمان بھائی اس شدید عذاب کی حالت میں مشرکوں کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گا؟ یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس وقت ابوجندل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپیل نہیں کی بلکہ عامتہ المسلمین سے اپیل کی جس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وہ جانتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خواہ کتنا ہی درد ہو آپ کسی صورت میں معاہدہ کی کارروائی میں رخنہ نہیں پیدا ہونے دیں گے۔مگر غالبا عامتہ المسلمین سے وہ یہ توقع رکھتا تھا کہ وہ شاید غیرت میں آکر اس وقت جبکہ ابھی معاہدہ کی شرطیں لکھی جارہی تھیں کوئی ایسا رستہ نکال لیں جس میں اس کی رہائی کی صورت پیدا ہو جائے مگر مسلمان خواہ کیسے ہی جوش میں تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف بخاری کتاب الشروط