سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 856 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 856

۸۵۶ وقت تک نہیں ملیں گے کہ عثمان کا بدلہ نہ لے لیں۔پھر آپ نے صحابہ سے فرمایا ” آؤ اور میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ( جو اسلام میں بیعت کا طریق ہے) یہ عہد کرو کہ تم میں سے کوئی شخص پیٹھ نہیں دکھائے گا اور اپنی جان پر کھیل جائے گا مگر کسی حال میں اپنی جگہ نہیں چھوڑے گا۔اس اعلان پر صحابہ بیعت کے لئے اس طرح لیکے کہ ایک دوسرے پر گرے پڑے تھے۔اور ان چودہ پندرہ سو مسلمانوں کا ( کہ یہی اس وقت اسلام کی ساری پونجی تھی ) ایک ایک فرد اپنے محبوب آقا کے ہاتھ پر گویا دوسری دفعہ بک گیا۔" جب بیعت ہو رہی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ پر رکھ کر فرمایا " یہ عثمان کا ہاتھ ہے کیونکہ اگر وہ یہاں ہوتا تو اس مقدس سودے میں کسی سے پیچھے نہ رہتا لیکن اس وقت وہ خدا اور اس کے رسول کے کام میں مصروف ہے۔اس طرح یہ بجلی کا سا منظر اپنے اختتام کو پہنچا۔اسلامی تاریخ میں یہ بیعت بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے یعنی وہ بیعت جس میں مسلمانوں نے خدا کی کامل رضا مندی کا انعام حاصل کیا۔قرآن شریف نے بھی اس بیعت کا خاص طور پر ذکر فر مایا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا یعنی اللہ تعالیٰ خوش ہو گیا مسلمانوں سے جب کہ اے رسول ! وہ ایک درخت کے نیچے تیری بیعت کر رہے تھے کیونکہ اس بیعت سے ان کے دلوں کا مخفی اخلاص خدا کے ظاہری علم میں آ گیا سوخدا نے بھی ان پر سکینت نازل فرمائی اور انہیں ایک قریب کی فتح کا انعام عطا کیا۔“ صحابہ کرام بھی ہمیشہ اس بیعت کو بڑے فخر اور محبت کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر بعد میں آنے والے لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ تم تو مکہ کی فتح کو فتح شمار کرتے ہومگر ہم بیعت رضوان ہی کو فتح خیال کرتے تھے۔اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ بیعت اپنے کوائف کے ساتھ مل کر ایک نہایت عظیم الشان ل : یہ بیعت ایک ہی دفعہ اکٹھی نہیں ہوئی بلکہ تین دفعہ باری باری کر کے ٹکڑیوں میں ہوئی تھی۔طبری جلد ۲ صفحہ ۱۵۴۴ : سوائے شاید ایک شخص جد بن قیس کے جس کے متعلق ایک روایت آتی ہے کہ وہ منافق تھا اور بیعت کے وقت اپنے اونٹ کے پیچھے چھپ گیا تھا۔(ابن ہشام واسد الغابہ ) : طبری وابن ہشام وابن سعد ۴ : بخاری باب مناقب عثمان سورة الفتح : ۱۹ : بخاری کتاب المغازی حالات صلح حد : ابن سعد