سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 855 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 855

۸۵۵ پُر امن ارادوں اور عمرہ کی نیت سے آگاہ کریں۔اور آپ نے حضرت عثمان کو اپنی طرف سے ایک تحریر بھی لکھ کر دی جور و ساء قریش کے نام تھی۔اس تحریر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آنے کی غرض بیان کی اور قریش کو یقین دلایا کہ ہماری نیت صرف ایک عبادت کا بجالانا ہے اور ہم پر امن صورت میں عمرہ بجالا کر واپس چلے جائیں گے۔آپ نے حضرت عثمان سے یہ بھی فرمایا کہ مکہ میں جو کمزور مسلمان ہیں انہیں بھی ملنے کی کوشش کرنا اور ان کی ہمت بڑھانا اور کہنا کہ ذرا ورصبر سے کام لیں خدا عنقریب کامیابی کا دروازہ کھولنے والا ہے۔یہ پیغام لے کر حضرت عثمان مکہ میں گئے اور ابوسفیان سے مل کر جو اس زمانہ میں مکہ کا رئیس اعظم تھا اور حضرت عثمان کا قریبی عزیز بھی تھا اہل مکہ کے ایک عام مجمع میں پیش ہوئے۔اس مجمع میں حضرت عثمان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر پیش کی جو مختلف رؤساء قریش نے فرداً فرداً بھی ملاحظہ کی مگر با وجود اس کے سب لوگ اپنی اس ضد پر قائم رہے کہ بہر حال مسلمان اس سال مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے کے حضرت عثمان کے زور دینے پر قریش نے کہا کہ اگر تمہیں زیادہ شوق ہے تو ہم تم کو ذاتی طور پر طواف بیت اللہ کا موقع دے دیتے ہیں مگر اس سے زیادہ نہیں۔حضرت عثمان نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ تو مکہ سے باہر روکے جائیں اور میں طواف کروں؟ مگر قریش نے کسی طرح نہ مانا اور بالآخر حضرت عثمان مایوس ہو کر واپس آنے کی تیاری کرنے لگے۔اس موقع پر مکہ کے شریر لوگوں کو یہ شرارت سوجھی کہ انہوں نے غالبا اس خیال سے کہ اس طرح ہمیں مصالحت میں زیادہ مفید شرائط حاصل ہوسکیں گی حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کو مکہ میں روک لیا۔اس پر مسلمانوں میں یہ افواہ مشہور ہوئی کہ اہل مکہ نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا ہے۔بیعت رضوان یہ خبر حدیبیہ میں پہنچی تو مسلمانوں میں سخت جوش پیدا ہوا کیونکہ عثمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور معزز ترین صحابہ میں سے تھے اور مکہ میں بطور اسلامی سفیر کے گئے تھے اور یہ دن بھی اشہر حرم کے تھے اور پھر مکہ خود حرم کا علاقہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً تمام مسلمانوں میں اعلان کر کے انہیں ایک بول ( کیکر) کے درخت کے نیچے جمع کیا اور جب صحابہ جمع ہو گئے تو آپ نے اس خبر کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر یہ اطلاع درست ہے تو خدا کی قسم ہم اس جگہ سے اس ابن ہشام زرقانی : زرقانی جلد ۲ صفحه ۲۰۶ : ابن ہشام وابن سعد