سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 846 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 846

۸۴۶ معجزات کے متعلق ایک مختصر اصولی نوٹ یہ سوال کہ اس موقع پر عام قانون قدرت کے خلاف چشمہ کا پانی کس طرح زیادہ ہو گیا ؟ معجزات حصہ کی بحث سے تعلق رکھتا ہے جس کے متعلق ہم اس کتاب میں دوسری جگہ ایک اصولی نوٹ درج کر چکے ہیں اور اس جگہ اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔دراصل معجزات کی بحث دو اصولی حصوں میں منقسم ہے۔ایک عقلی دلائل سے تعلق رکھتا ہے جن سے معجزات کا امکان اور ان کی ضرورت ثابت ہوتی ہے اور دوسرا حصہ مشاہدہ سے تعلق رکھتا ہے جس سے معجزات کا عملاً وقوع میں آنا ثابت ہوتا ہے۔عقلی دلائل کا نتیجہ صرف اس حد تک ہے کہ معجزہ وقوع میں آسکتا ہے اور یہ کہ انسان کی روحانیت کی تکمیل کے لئے اسے وقوع میں آنا چاہئے مگر اس سے آگے اس بات کے ثبوت کے لئے کہ معجزہ واقعی ہوتا بھی ہے مشاہدہ کی ضرورت پیش آتی ہے اور خوش قسمتی سے اس قسم کے مشاہدہ کا وجود ہر نبی کے زمانہ میں اور ہر قوم کی تاریخ میں ملتا ہے مگر افسوس ہے کہ موجودہ زمانہ کی عالمگیر مادیت نے انسان کے روحانی کمالات اور روحانی حواس کو اس حد تک خاک میں ملا رکھا ہے کہ مادہ پرستی کے خیالات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا اور انسانیت کے اعلی کمالات زمین دوز دفینوں کی طرح نظروں سے دور اور آنکھوں سے مستور ہو چکے ہیں۔مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ خدا کا قانون دو قسم کا ہے۔ایک وہ جو اس کی نہ بدلنے والی سنتوں اور اس کے وعدوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے مثلاً یہ کہ کوئی مردہ زندہ ہو کر اس دنیا میں دوبارہ واپس نہیں آسکتا ہے اور دوسرا وہ جوان دو دائروں کے علاوہ ہے مثلاً نیک اور بد بندوں کے ساتھ خدا کے سلوک کے اظہار کا طریق وغیرہ۔پس جہاں تک اول الذکر قانون کا تعلق ہے قرآن شریف بڑے زور کے ساتھ فرماتا ہے کہ وہ بالکل اٹل ہے۔اور نہ صرف دنیا کی تمام علمی و عملی ترقی بلکہ خدا کی شان اور وقار کا اظہار بھی اس کے اہل ہونے کے ساتھ وابستہ ہے لیکن مؤخر الذکر قانون حالات کے اختلاف کے ساتھ اپنی صورت بدل سکتا ہے اور اس کا بدلنا خدا کی شان کے خلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہے اور اسی تبدیلی کے غیر معمولی ظہور کا نام معجزہ ہے۔دراصل اگر اس دنیا کا کوئی خدا ہے جس نے اس دنیا کی چیزوں کو اور ان چیزوں کے خواص کو پیدا کیا ہے اور یہ خدا اپنے تخت حکومت سے معزول و معطل نہیں ہو گیا اور اپنے قانون کا غلام نہیں بن گیا تو پھر اس خدا میں یہ قوت تسلیم کرنی پڑے گی کہ اپنی سنت اور وعدہ کی باتوں کو الگ رکھ کر جن میں بہر حال کوئی تبدیلی نہیں لے: دیکھئے کتاب ہذا حصہ دوم سورۃ الاحزاب : ۶۳۶۲ : سورۃ المومنون : ۹۶ تا ۱۰۱