سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 845 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 845

۸۴۵ دیا جائے یا اور آپ خود چشمہ کے کنارے پر تشریف لا کر وہاں بیٹھ گئے اور تھوڑ اسا پانی لے کر اسے اپنے منہ میں ڈالا اور پھر خدا سے دعا کرتے ہوئے یہ پانی اپنے منہ سے چشمہ کے اندر انڈیل دیا اور صحابہ سے فرمایا کہ اب تھوڑی دیر انتظار کرو۔چنانچہ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ چشمہ کے اندر اتنا پانی بھر آیا کہ سب نے اپنی اپنی ضرورت کے لئے استعمال کیا اور پانی کی تکلیف جاتی رہی۔اس پر اللہ تعالیٰ نے مزید فضل یہ فرمایا کہ اسی رات یا اس کے قریب بارش بھی ہوگئی۔چنانچہ جب صبح کی نماز کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میدان پانی سے تر بتر تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مسکراتے ہوئے فرمایا ” کیا تم جانتے ہو کہ اس بارش کے موقع پر تمہارے خدا نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ صحابہ نے حسب عادت عرض کیا کہ خدا اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا ” خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں سے بعض نے تو یہ صبح حقیقی ایمان کی حالت میں کی ہے مگر بعض کفر کی حالت میں پڑ کر ڈگمگا گئے۔کیونکہ جس بندے نے تو یہ کہا کہ ہم پر خدا کے فضل ورحم سے بارش ہوئی ہے وہ تو ایمان کی حقیقت پر قائم رہا مگر جس نے یہ کہا کہ یہ بارش فلاں فلاں ستارے کے اثر کے ماتحت ہوئی ہے تو وہ بیشک چاند سورج کا تو مومن ہو گیا لیکن خدا کا اس نے کفر کیا۔اس ارشاد سے جوتو حید کی دولت سے معمور ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو یہ سبق دیا کہ بے شک سلسلہ اسباب و علل کے ماتحت خدا نے اس کا رخانہ عالم کو چلانے کے لئے مختلف قسم کے اسباب مقررفرما رکھے ہیں اور بارشوں وغیرہ کے معاملہ میں اجرام سماوی کے اثر سے انکار نہیں مگر حقیقی توحید یہ ہے کہ باوجود درمیانی اسباب کے انسان کی نظر اس وراء الوراء ہستی کی طرف سے غافل نہ ہو جو ان سب اسباب کی پیدا کرنے والی اور اس کارخانہ عالم کی علت العلل ہے اور جس کے بغیر یہ ظاہری اسباب ایک مردہ کیڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔بقیہ حاشیہ سے فرمایا کہ اب اپنے اپنے برتن لاؤ اور بھر لو۔راوی بیان کرتا ہے کہ اس وقت آپ کی انگلیوں کے اندر سے پانی اس طرح پھوٹ پھوٹ کر بہ رہا تھا کہ گویا ایک چشمہ جاری ہے۔حتی کہ سب نے اپنی ضرورت کے مطابق پانی لے لیا اور مسلمانوں کی تکلیف جاتی رہی۔بخاری کتاب المغازی روایت جابر بن عبد الله وسيرة حلبیہ حالات صلح حدیبیہ۔بخاری کتاب الشروط سے بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الحدیبیہ عن براء بن عازب بخاری کتاب المغازی حالات صلح حدیبیہ وا ابن سعد جلد ۲ صفحہ ۷۰